صدارتی ترجمان ابراہیم قالن کا نئے صدارتی نظام اور 15 جولائی کے بعد کے دور کا تجزیہ

گر 15 جولائی  کی بغاوت  کی کوشش  کمزور اداروں  کے حامل اور جمہوری شعور و ثقافت    سے عاری کسی ملک میں   کی جاتی تو اس ملک کی معیشت فوری طور پر تباہ ہو کر رہ جاتی

صدارتی ترجمان ابراہیم قالن کا نئے صدارتی نظام اور 15 جولائی کے بعد کے دور کا تجزیہ

ناکام بغاوت کے  دو سال بعد  بھی ترکی پوری طرح اپنے پاوں پر کھڑا ہے۔

15 جولائی کی رات ناکام بغاوت  کے دو سال بعد  ترکی   نئے نظام کے تحت  مزید مضبوط  اور طاقتور   ہونے کی راہ اختیار کرچکا ہے۔

اس  ہفتے کے اواخر میں   ترکی میں 15 جولائی  2016     کو ہونے والی ناکام بغاوت   کو دو سال مکمل ہو چکے ہیں  ۔ فتح اللہ گولن  اور اس سے منسلک  دہشت گرد تنظیم   فیتو  کی جانب سے کیے جانے والے دہشت گردی کے حملے    میں 250 افراد شہید اور   2000 سے زائد افراد  زخمی ہوگئے تھے۔

چند گھنٹوں کے اندر  اندر  صدارتی محل،  پارلیمنٹ    ، محکمہ پولیس  اور خفیہ سروس  کی عمارتوں  سمیت ترکی کے اہم اسٹریٹجیک مقامات   کا محاصرہ کرتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔ ڈیموکریسی کے دشمنوں  کے خلاف حاصل  کردہ  فتح  کے بعد    اس قسم کی ٹریجڈی   کو پھر سے  رونما ہونے سے  روکنا ہم سب پر فرض ہے۔ اس  لحاظ سے جب ہم ماضی پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں تو  گزشتہ دو سالوں  ترکی  بڑے کٹھن دور سے ہو گزرا ہے۔   

اُس شب کو  لاکھوں کی تعداد میں ترک شہریوں  نے قوم کی بقا  کی خاطر   اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے ہوئے  تاریخ رقم کی۔مختلف نسل، سیاسی و ثقافتی  ماضی سے تعلق رکھنے والے ہم وطنوں نے آزاد شہری کی حیثیت سے مل کر باغیوں کو حزیمت   سے دو چار کیا۔ یہ آئندہ کی نسلوں  کے لیے ایک تاریخی لمحے کے طور پر  یاد کیا جانا والا   ایک فخریہ یوم تھا۔ ترکی نے 15 جولائی کی مذموم بغاوت کی کوشش  کے دھچکے کو صدر رجب طیب ایردوان  کی طاقتور قیادت،  ترک عوام  کی جمہوریت سے وابستگی اور وطن کے اداروں  کی طاقت کے بل بوتے   دور کیا ۔ ناکام بغاوتی اقدام کے  قلیل مدت بعد ،  پیش آنے والے واقعات کو ہر  پہلو سے  منظر عام پر لانے اور ترک  ڈیموکریسی کے خلاف مستقبل میں ممکنہ حملوں کا سد باب کرنے کے زیرِ مقصد ملک میں  ہنگامی حالت  نافذ کی گئی۔

اس واقع کے  بعد  کے دو  سال کا عرصہ بیتنے کے بعد جیسا کہ   صدر ِ ترکی نے 24 جون کے انتخابات سے قبل عندیہ دیا تھا ، ہنگامی حالت کے نفاذ کا آئندہ ہفتے سے خاتمہ کر دیا جائیگا۔ اگر 15 جولائی  کی بغاوت  کی کوشش  کمزور اداروں  کے حامل اور جمہوری شعور و ثقافت    سے عاری کسی ملک میں   کی جاتی تو اس ملک کی معیشت فوری طور پر تباہ ہو کر رہ جاتی، سیاست  اپنی ڈگر سے نکل جاتی اور سماجی امن و امان خطرے میں پڑ جاتا۔  اس لحاظ سے آج  اور ترک جمہوریت کے خلاف خونی حملوں کے پیش آنے والے دن کے درمیانی عرصے میں    رونما ہونے والے   تمام تر واقعات کا ترکی کے ایک ملک کی حیثیت سے کس قدر مضبوط ہونے  کا ثبوت پیش  کرنے کی بنا پر بڑی توجہ اور دھیان سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔

وطن عزیز میں  اس ناکام  بغاوت کے باوجود 3 دہشتگرد تنظیموں سے بیک وقت حکومت کی  محاذ آرائی  کسی معرکے سےکم نہیں   اور یہ پہلی بار ہوا ہے  کہ نیٹو کے کسی رکن ملک کو اس طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ۔  خوش قسمتی سے دسمبر 2016 سے  ترکی میں کوئی بڑا دہشتگردی کا واقعہ پیش نہیں آیا  حتی گزشتہ سال   ترکی کی اقتصادی ترقی کی شرح  میں نمایاں اضافہ  ہوا  اور  لاکھوں  افراد کو    روزگار کے مواقع نصیب ہوئےجبکہ    سماجی امن کی کوششیں بھی  کار گر ثابت ہوئیں ۔

 گزشتہ دو سال کے عرصے میں     ترکی میں  کسی ممکنہ بغاوت کا سر کچلنے  کےلیے  حکومت  نے ضروری تدابیر اختیار کر رکھی ہیں  جس کے لیے اس نے  مغربی  ذرائع ابلاغ   کی من گھڑت کہانیوں کے بجائے  حقیقت پسندانہ  اور درست صحافت کا سہارا لیا ۔

 در حقیقت ، ترک جمہوری روایات   کے خلاف تمام سازشوں کو ختم کرنے کےلیے  ہنگامی حالت  کے نفاذ میں  عام شہریوں کے حقوق کا  ممکنہ حد تک خیال رکھا گیا اور حکومت  نے اس سلسلے میں حاصل تمام مراعات کا استعمال انتہائی کم درجے پر  کرتےہوئے سرمایہ کاری       کو کنٹرول میں نہ کرتےہوئے اندرون و بیرون ملک سفر و سیاحت میں کسی قسم کی  خصوصی پابندی عائد نہیں کی ۔

عام انتخابات اور 2017 کے ریفرینڈم سے قبل متعدد مختلف سیاسی پارٹیوں  نے کسی قسم  کی پابندی کا سامنا کئے بغیر انتخابی مہموں کو جاری رکھا۔ نتیجتاً  ایک عمومی جائزہ لینے پر یہ چیز سامنے آتی ہے کہ ترک عوام کی حیثیت سے ہم ایک جگہ جمع ہوئے اور ملت کی حیثیت سے دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑے ہو گئے۔ کوئی بھی چیز اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکے گی۔ آج ، ایماندارا ور محنتی ترک انسان کے قلب و ذہن کو  اپنے ہاتھ میں لینے  کے لئے فیتو دہشت گردوں کی طرف سے کئے گئے  حملے کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ اس وقت ہم اپنے  ملک کے سرکاری اداروں اور سول سوسائٹیوں  کے گرد فیتو کے  محاصرے کو توڑ چکے ہیں۔

اس سب کے ساتھ ساتھ ہم نے اس  دہشتگرد گروپ   کی دنیا کے چاروں گوشوں میں انسانوں کو اپنے تعلیمی اثر میں لینے کی کوششوں کے سدباب کے لئے اقدامات کئے۔ خاص طور پر ترکی کے  اوورسیز اسکولوں کا کنٹرول واپس لینے اور ملک  کے امید کی کرن کے طور پر باقی رہنے کے لئے  'ترک معارف وقف ' کو بیرونی ممالک میں نئے تعلیمی ادارے قائم کرنے کا فریضہ سونپا گیا۔ علاوہ ازیں غیر ملکی حکومتیں  اس پہلو سے  واضح شکل میں آگاہ ہو گئی ہیں کہ ترکی اس مسئلے کو کس قدر سنجیدگی سے لے رہا ہے  اور گولن اور اس کے خدمتگاروں نے کس طرح دیگر ممالک کی سکیورٹی کو خطرے میں ڈالا ہے۔ آخر میں یہ کہ 15 جولائی  کے حملے کے اقدام  میں ملوث  افراد کو عدالت کے کٹہرے میں لانے کے لئے ہماری کوششیں پُر عزم شکل میں جاری رہیں گی۔



متعللقہ خبریں