عالمی نقطہ نظر38

خول میں بند مغرب اورعالمگیریت

عالمی نقطہ نظر38

عالمی نقطہ نظر 38

Küresel Perspektif  / 38

İçe Kapanan Batı, Küreselleşen Dünya

Prof. Dr. Kudret BÜLBÜL

 

90 کی دہائی  کے دوران  درس و تدریس کا آغاز کرتے ہی   مجھے پہلی بار عالمگیریت  کا لفظ سننے کو ملا  جس کے بعد  سوچنے لگا کہ اس  تعریف  کا   ترکی جیسے   ترقی پذیر ممالک پر کیا اثر پڑے گا؟

 اس تجسس  نے مجھے  عالمگیریت  پر پی ایچ ڈی  کرنے کی  راہ دکھائی  ۔  پہلے پہل تو مجھے ایسا لگا کہ یہ  تعریف  انسانی مفاد میں ہوگی مگر   میری  تعلیم کے اختتام پر یہ واضح ہوگیا کہ یہ ایک مشکل  مرحلہ ہے  ۔

 تحقیق کے دوران  مغرب،   عالمگیریت کا ڈھنڈورا پیٹ رہا تھا اور سرمائے اور مال و زر کی   فراوانی    اور سیاسی  حدود کی بندشوں سے  رہائی     کے دفاع کے قصیدہ گوئی میں مصروف تھا ۔ مقابلے بازی  ،تعاون ،کسٹم قوانین  اور کوٹہ سسٹم کا خاتمہ    اس کے اولین ترجیحات میں شامل ہوتا تھا  تاکہ دنیا ایک  صحت مندانہ مقابلے بازی کی دوڑ میں شامل  ہو سکے  مگر اس کے جواب میں  ترقی پذیر ممالک  میں عالمگیریت    کا مفروضہ   مخالفت کا سبب  بن رہا  تھا۔ اور ان کا  کہنا تھا کہ یہ  مغربی ممالک کے اپنے مفاد کا ذریعہ  ہے  اور ان تمام  ترجیحات کا براہ راست فائدہ مغرب  کو پہنچے گا اور یہ تمام پالیسیاں  ترقی پذیر ممالک   کو کمزور بناتےہوئے مقابلے بازی کے دور میں مشکلات پیدا کر دیں گی ۔

نظریاتی  لحاظ سے  عالمگیریت  سرمایہ دارانہ نظام کا ایک نیا روپ تھا جس میں  معاشی  اعتبار سے ترقی پذیر ممالک   کےلیے مشکلات پیدا  کرنے سمیت    غریب ممالک کے  حکومتی نظام  کو کمزور کرنا تھا   لہذا ان ممالک نے    عالمگیریت کے خلاف ایک  محاذ کھڑا کر دیا تاکہ اپنے قومی مفادات کا دفاع کیا جا سکے۔

 یہ تمام اعتراضات مستقبل  پر نہیں بلکہ ماضی   کا مشاہدہ کر تے ہوئے  اپنی جگہ درست تھے کیونکہ   عالمگیریت     سرمایہ دارانہ نظام کا ایک نیا نام تھا  جس میں  اس بات کو فراموش کر  دیا گیا تھا  کہ  یہ نظام    ملکی  حکومتوں کے درمیان ربط کیسے پیدا کرےگا اور اس کے اثرات کیا ہونگے۔

   درس و تدریس کے 30 سال گزرنے کے بعد  اب یہ واضح ہے کہ   اس دور   کے نظریات  آج کے زمانے میں  کتنے صحیح ثابت ہو رہے ہیں۔

دور جدید میں  عالمگیریت    کی تعریف     کے اصل حقدار مغربی ممالک نہیں رہے   اور اب یہ عالم ہے کہ امریکہ سمیت  یہ طاقتیں   ان  نظریات کے حامی ہیں جو کہ 90 کی دہائی میں  ترقی پذیر ممالک       نے اپنائے تھے ۔ بالخصوص امریکہ بہادر اس وقت  بیرونی ممالک   میں موجود  سرمائے کی وطن واپسی   سمیت    درآمدی محصولات میں اضافہ  کر رہا ہے یہ اس بات کا ثبو ت ہے ۔

ان تمام  کوششوں کے باوجود   ترقی پذیر ممالک جو کہ اس تعریف  سے کوسوں دور تھے اب  عالمی افق پر اقتصادی طاقت بننے  کی جستجو میں مصروف ہیں جن میں  بھارت،چین،ترکی اور برازیل   نمایاں ہیں۔ چین مغرب کے خلاف  آج   عالمگیریت  کی پالیسی کا دفاع کر رہا ہے  جبکہ ترکی سن 2000 کے بعد اس  نظام کے کھیل میں  پیش پیش رہا  اور اس نے اپنی    جمہوری آزادی کو مزید پروان چڑھایا ۔ اس سارے عرصے میں  ترکی   میں معاشی اصلاحات ہوئیں  اور فی کس آمدنی جو 2000 ڈالر سالانہ کے مساوی تھی  اب   کئی گنا بڑھ گئی  ہے  جو کے  دشمنوں کی آنکھ میں کسی پھانس کی طرح چبھ رہی ہے ۔

 لیکن تاحا ل    ترکی  اور دنیا   کا بعض روشن خیال  طبقہ  اس 30 سالہ  دور  کے نتائج  اور اس کے باقی  اثرات سے بے خبر  ہے  اور  اس کی حمایت میں دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔ مغرب اپنے اس نظام کی ناکامی پر  خفگی کا شکار ہے   جس کے نتیجے میں اس نے دیگر ممالک کے خلاف    سخت پالیسیاں اختیار کرنا شروع کر دی ہیں۔

 یہ بھی حقیقت ہے عالمگیریت   کے  مواقعوں   سے تمام ترقی پذیر ممالک     مستفید نہیں ہوئے حتی بعض ممالک کو نقصان بھی پہنچا  کیونکہ یہ  ساری صورت حال  یکساں  مواقعوں کی فراہمی میں ناکام رہی تھی ۔

    مغربی  مفکرین ،دانش ور،ماہرین تعلیم ،سیاست دان، تاجران  اور حکمران اب گزرے وقت کی لکیر پیٹنے کے بجائے   اس  بات پر سر جوڑ سکتےہیں    کہ    ماضی کی طرح   جدید ٹیکنالوجی   کل پرانی ہو جائے گی  لہذا  اس بدلتی دنیا       کی  رفتار   کی ڈور کو کیسے تھاما جائے۔

یہ جائزہ آپ کی خدمت میں  انقرہ کی یلدرم بایزید یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر   قدرت بلبل کے قلم سے پیش کیا گیا ۔

 

 

 

 



متعللقہ خبریں