حالات کے آئینے میں ۔ 39

حالات کے آئینے میں ۔ 39

حالات کے آئینے میں ۔ 39

پروگرام " حالات کے آئینے میں " کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان اور روس کے صدر ولادی میر پوتن  نے سوچی میں دو طرفہ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔ دونوں رہنماوں نے جاری  کردہ مشترکہ بیان میں ادلب میں اسلحے سے پاک علاقے کی تشکیل  کے موضوع پر متفق ہونے کا اعلان کیا۔ اس اہم اجلاس سے فوراً بعد روس کی وزارت دفاع کی طرف سے بھی بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا  کہ ادلب آپریشن نہیں کیا جائے گا۔

سیاسی ، اقتصادی و معاشرتی تحقیقاتی  وقف سیٹا کے محقق اور مصنف جان آجُون کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

طے پانے والے سمجھوتے کے ساتھ ترکی نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی صدر ایردوان کا پُر عزم طرزعمل، حالیہ دنوں میں مسئلہ ادلب  کے لئے خود کو وقف کرنا، مسئلہ کے لئے ان کی کاروائیاں  اور تہران  کے فائر بندی کرنے  پر اصرار  ایسے اقدامات تھے کہ جنہوں نے انہیں مذاکراتی میز کے ساتھ ساتھ فیلڈ میں سرگرم دکھایا۔ حالیہ دنوں میں ترک مسلح افواج نے ادلب  میں نہایت اہم قلعہ بندیاں کیں۔ ترکی کی ادلب میں موجود 12 کنٹرول چوکیوں  کے لئے کثیر تعداد میں بکتر بند گاڑیوں، ٹینکوں اور فوجی یونٹوں کی کمک بھیجی  گئی۔ اس اقدام سے ترکی نے روس ، ایران، اسد انتظامیہ  اور شعیہ عسکریت پسندوں کو دکھا دیا کہ وہ اس معاملے میں کس قدر سنجیدہ اور پُر عزم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف جاری ڈپلومیٹک مذاکرات اور دوسری طرف فیلڈ میں اختیار کردہ فوجی اقدامات نے حتمی نتائج دئیے۔ سوچی مذاکرات میں روس نے سنجیدہ سطح پر پس قدمی اختیار کی۔ روس، ایران اور اسد انتظامیہ ادلب میں ایک جامع فوجی آپریشن کرنے کے خواہش مند تھے۔ اس  سلسلے میں ایک شدید دباو موضوع بحث تھا۔ خاص طور پر جسر السغور  اور شمالی حاما  کے علاقے میں بمباری  ، انتظامی فورسز  اور ایرانی حمایت  کے حامل عسکریت  پسندوں کی فرنٹ لائن  پر بھاری نقل و حرکت دباو میں اضافہ  کر رہی تھی۔

لہٰذا ایسے کسی فوجی آپریشن کا سدباب ہو جانا ترکی کی قومی سلامتی کے حوالے سے بھی ا ور شام کے مستقبل کے لئے بھی ضروری  امن  مرحلے میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ سب سے اہم یہ کہ ترکی کی کوششوں کے نتیجے میں 3 ملین سے زائد شہریوں کی زندگیاں بچ گئیں اور  مہاجرین کی ایک بڑی  لہر کا سدباب ہو گیا۔ ادلب کے معاملے میں حاصل کردہ کامیابی کی وجہ سے صدر رجب طیب ایردوان، ترک مسلح افواج اور قومی خفیہ ایجنسی کو مبارکباد پیش کرنا ضروری ہے۔ ایک ایسے علاقے میں کہ جسے پوری دنیا تشویش اور اندیشے کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے بڑے پیمانے کے انسانی بحران کا سدباب ہو گیا۔

سوچی میں روس کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے کے دائرہ کار میں  ادلب میں جو اسلحے سے پاک علاقہ تشکیل دیا جائے گا وہاں سے دو طرفہ شکل میں متعصب عناصر  اور بھاری اسلحے  کے انخلاء کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔ اس طرح روس پر بھی اور ترکی پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر  روس کا فیلڈ میں موجود شعیہ عسکریت پسندوں کو قائل کرنا ضروری ہے  تو ترکی بھی ہیت التحریر الشام جیسے گروپوں  کی موجودگی کا کوئی حل تلاش کرنے پر مجبور ہے۔

ترکی  اور روس ایک طرف تو 15 سے 20 کلو میٹر  پر مشتمل اسلحے سے پاک علاقے کی تشکیل کے ضامن ہوں  گے اور دوسری طرف  باہم مربوط  لیکن آزادانہ پیٹرولنگ  بھی کریں گے۔ ترکی اور روس  آستانہ مذاکرات  کے دائرہ کار میں قائم کی گئی کنٹرول چوکیوں   کی فوجی حوالے سے قلعہ بندی کریں گے اور اسلحے سے پاک کئے گئے علاقے کو دونوں ملکوں کے ڈرون طیاروں کی مدد سے زیر کنٹرول رکھا جائے گا۔ اسلحے سے پاک کئے گئے علاقوں کے شامی مخالفین اور انتظامی فورسز کا اور ان کے زیر کنٹرول مقامات کا تحفظ کیا جائے گا اور دو طرفہ شکل میں بھاری اسلحہ فرنٹ لائن سے پیچھے ہٹا لیا جائے گا۔

طے پانے والے سمجھوتے کی رُو سے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل M4 اور M5 موٹر ویز کو تحفظ میں لے کر دوبارہ سے تجارت کے  لئے کھول دیا جائے گا۔ لازکئیہ اور دمشق کو حلب سے منسلک کرنے والے M4 اور M5 موٹر ویز شامی اقتصادیات  کے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔

اس سب کے ساتھ ساتھ ترکی اور روس کے درمیان سمجھوتہ  ترکی  کی دہشتگردی کے خلاف جدوجہد پر بھی مثبت اثرات مرتب کرے گا۔ کیونکہ PKK/YPG  کے دہشتگرد ادلب آپریشن سے فائدہ اٹھا کر  عفرین  پر دباو ڈالنا چاہتے تھے۔ تاہم سمجھوتے کے ذریعے اس خطرے کا بھی سدباب ہو گیا ہے۔ علاوہ ازیں ادلب آپریشن کا سدباب ہونے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ ترکی دوبارہ سے PKK/YPG کے پیدا کردہ خطرات کے مقابل اقدامات کرنے پر توجہ مبذول کرے گا۔

 



متعللقہ خبریں