عالمی نقطہ نظر 40

آداب انصاف اور عالمی ضرورت

عالمی نقطہ نظر 40

عالمی نقطہ نظر 40

 

Küresel Perspektif  / 40

                       Adalet Dairesi

Prof. Dr. Kudret BÜLBÜL

 

گزشتہ ہفتے نیو  یارک میں اقوام متحدہ  کے 73 ویں عمومی اجلاس     میں عالمی قائدین نےشرکت  کی ۔ امریکی   صدر ٹرمپ     کی عالمیگیریت کے خلاف بیان بازی  اور اس کے جواب میں فرانسیسی صدر کی عالمی تعاون  کی حمایت پر مبنی  اعلان، صدر ترکی رجب طیب ایرودان       کی  سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں   تبدیلی  پر اصرار  اور نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم   کی  3 ماہ  کے  شیر خوار بچے کے ہمراہ اجلاس میں شرکت بعض سرگرمیوں کی جھلک تھی ۔

 اس جائزے میں   راقم  صدر  رجب طیب ایردوان       کی غیر جانبداری پرمبنی بیانات پر روشنی ڈالنے کی  خوشش کرے گا۔ صدر ایردوان نے اپنے خطاب میں    قدیم ترک  اسلامی  روایت    کا حوالہ دیا  اور توجہ  عالمی غیر جابنداری  پر مرکوز کی ۔

 صدر نے  کہا کہ  ہماری تہذیب میں  انصاف  اور غیر جانبدارانہ فیصلوں کو  معاشرے، سرکاری انتظامیہ     اس کے حقوق اور معیشت  و عدالتی شعبوں میں  برتری حاصل ہوتی تھی  مگر آج کی دنیا میں       اس نظام    میں  خرابیوں کا مشاہدہ ہو رہا ہے یہی وہ وجہ ہے کہ  دور حاضر میں  سیاسی،سماجی  اور اقتصادی  عدم استحکام        کے شکنجے میں  دنیا جکڑی نظر آتی ہے ۔ اگر دنیا  ان مسائل سے نجات  چاہتی ہے تو  اسے قانون تقاضوں کو غیر جانبدارانہ  اور  انصاف  پر استوار کرنا ہوگا۔ ایک مثال دینا چاہوں  گا کہ  اس دنیا میں صرف   62 شخصیات کے مجموعی  مالی اثاثے اگر 3اعشاریہ 6ارب انسانوں کے مساوی ہیں  تو یہ ایک غیر منصفانہ  مسئلہ  ہے  جس پر غور کی ضرورت ہے ۔

 جناب صدر   کی اس تعریف کو بہتر طور پر جاننے کےلیے  ہمیں ماضی  میں جانا ہوگا۔ جنگ عظیم دوئم  کے بعد انسانی حقوق،آزادی  اور مساوات    کا  ڈھنڈورا     پیٹنے  والے مغرب   میں آج  یہ باتیں ذرا کم نظر آتی ہیں   جہاں اب مسلمانوں کے خلاف نا انصافیوں اور نسل پرست سیاسی جماعتوں کا سراٹھانا واضح طور پر  نظر آتا ہے  جو کہ سیاسی گٹھ جوڑ سے اقتدار میں آکر   بسے مسلمانوں پر گھیرا تنگ کرنے میں  مصروف ہیں۔ یورپی ممالک  میں مہاجرین    کا  بحران سرحدی تحفظ سے کہیں زیادہ در حقیقت  انا   کا مسئلہ  بنتا جا رہا ہے۔ اس وقت   یورپ کو پناہ گزینوں  کی زندگی یا مرنے  کی  بالکل  پرواہ نہیں   ہے ۔

 ترکی کے نقطہ نگاہ سے   اگر دیکھا جائے  انصاف  اس کی روایات ،تہذیب اور  اعتقاد کا حصہ رہا ہے جہاں مساوات  کو فوقیت حاصل رہی ہے۔ یاد رہے کہ انصاف  کے معنی  آزادی اور اس کے بعد مساوات کے ہیں۔ عصروں سے  ترکی میں یہ قول  پڑھا اور سنا جاتا ہے کہ" انصاف   ملک کی بنیاد ہے "۔ملکیت  کے معنی مال و زر یا  دیگر قیمتی اشیا٫ نہیں  بلکہ   انتظامی نظم و ضبط اور انصاف کے غیر جانبدار اصولوں  کےہیں جس پر معاشرتی ،سیاسی عسکری  ،مالی،تجارتی اور اقتصادی تعلقات   فروغ پاتے ہیں۔

"  دائرہ الانصاف " کا ذکر  یوسف  خاص حجیب  کی  سن 1069  کی  تصنیف  میں ،قنالی زادہ  علی آفندی   کی سن 1564 میں لکھی  گئی اخلاق  اعلی   میں  ملتا ہے  جن میں    ترک اسلامی روایات میں  انصاف اور عدلی تقاضوں  کی اہمیت اور معاشرے میں اس کے  اعلی اوصاف کی بدولت         عوام  کی   خوش  حالی میسر آتی ہے ۔ مصنفین نے" دائرۃ الانصاف" کو      ایک ایسی زنجیر  سے  تعبیر کیا ہے کہ جہاں  دنیا     وی نظام  کا آغاز اور اس کا اختتام اس کے حلقوں  جیسا   ہوتا ہے ۔  عالمی امن  اور  انتظامی ا مور    کا  بنیاد ی  حلقہ    قانون کی بالا دستی  ہے   جبکہ دیگر حلقوں میں   ریاستی قوانین ،  ریاستی و عالمی قوانین میں  ہم آہنگی  اور فوجی شعبے  اور  محصولات کی   منصفانہ وصولی شامل ہیں ۔ شیخ   ادیبالی  کے مطابق   عوام   کی زندگی  اگر خوش حال ہو  تو   ریاست بھی زیادہ عرصے زندہ رہتی ہے ۔

 آج کے اس عالمی نظام    کا اگر جائزہ لیا جائے تو  جناب ایردوان    کا نظریہ     اس بات کی غمازی کرتاہے کہ اقوام متحدہ    کے ڈھانچے کی از سر نو ترتیب  وقت کی ضرورت بن چکا ہے ،بغیر کسی سنگین  وجہ کے معصوم  انسانوں پر اپنی سرحدوں  کے دروازے بند کرنا  کہاں      کی انسانیت اور آزادی ہے ۔  مغرب کی اس لا پرواہی سے انسانیت کا سر  شرم سے جھک گیا ہے  ۔ 1000 سال قبل  سلجوکی  وزیر   ناظم  الملک نے کیا خوب کہا تھا کہ   کفر کے  ساتھ جینا   آسان مگر ظلم کے سائے میں آباد ہونا مشکل ہے ۔

 یہ جائزہ آ پ کی خدمت میں  انقرہ کی  یلدرم  بایزید  یونیورسٹی کے شعبہ سیاسی علوم کے پروفیسر ڈاکٹر  قدرت بلبل کے قلم سے پیش کیا گیا ۔

 



متعللقہ خبریں