حالات کے آئینے میں ۔ 40

حالات کے آئینے میں ۔ 40

حالات کے آئینے میں ۔ 40

پروگرام "حالات کے آئینے میں" کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ حالیہ دنوں میں مسئلہ ادلب نے  عالمی ایجنڈے کو مصروف رکھا۔ سوچی سربراہی اجلاس میں طے پانے والے سمجھوتے کے نتیجے میں یہ مسئلہ ایک ایسی گانٹھ کی شکل میں ہمارے سامنے آ رہا ہے کہ جو سلجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ساڑھے تین ملین شہری آبادی  کے حامل علاقے ادلب کو انتظامیہ کے حملوں سے بچانا اور اس کی حفاظت کرنا نہایت اہمیت کا حامل تھا۔ ترکی کی کوششوں اور پُر عزم طرز عمل سے اس ممکنہ فوجی آپریشن کا سد باب ہو گیا کہ جو پوری دنیا کو  تشویش میں مبتلا کئے ہوئے تھا۔

سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی تحقیقاتی وقف SETA  کے محقق اور مصنف جان آجُون  کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

ترکی اور روس  کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے  کی رُو سے ادلب  کی  پوری فرنٹ لائن  کے ساتھ 15 سے 20 کلو میٹر  کے علاقے کو اسلحے سے پاک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس حوالے سے مخالفین کی طرف سے بھی اور انتظامیہ کی طرف سے بھی بھاری اسلحے کو پیچھے ہٹایا جائے گا اور دہشت گرد تنظیموں کو علاقے سے نکالا جائے  گا۔ علاوہ ازیں اسٹریٹجک اہمیت کے حامل علاقوں لازکیہ اور دمشق کو حلب کے ساتھ منسلک کرنے والے M4 اور M5 موٹر ویز کو دوبارہ سے شہری استعمال کے لئے کھولا جائے گا۔ اب ترکی اور روس کے درمیان سوچی میں ایک اہم سمجھوتہ تو طے پایا گیا ہے لیکن فیلڈ میں اس سمجھوتے کے عملی اطلاق کے راستے میں بعض رکاوٹیں کھڑی ہو سکتی ہیں۔

وہ علاقے جو روس کی ذمہ داری میں ہیں وہاں سب سے بڑا مسئلہ ایرانی حمایت کے حامل شعیہ ملیشیا  پیدا کر رہے ہیں۔ سوچی سربراہی اجلاس میں ایران کی عدم موجودگی سوچی سمجھوتے  کے عملی اطلاق کے پہلو پر ایرانی کی طرف سے رکاوٹ  کھڑی کئے جانے کا سبب بن سکتی ہے۔ سرکاری سطح پر ایران اور اسد انتظامیہ نے خواہ کیسا ہی سوچی سمجھوتے کی حمایت کا اعلان  کیوں نہ کیا ہو یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ایران بھی اور اسد انتظامیہ بھی ادلب کے لئے زیادہ  انتہائی نقطہ نظر کے حامل ہیں۔ فیلڈ میں سمجھوتے کے عملی اطلاق کے لئے روس کا ایرانی حمایت کے حامل شعیہ ملیشیاوں کو قائل کرنا ضروری ہے۔

سوچی سمجھوتے کے بعد ادلب میں انتظامیہ کے زیر کنٹرول علاقوں سے شامی مخالفین  کے زیر کنٹرول علاقوں پر وقتاً فوقتاً تحریکی فائرنگ کیا جانا اور انتظامیہ کا ادلب  کی فرنٹ لائن سے اپنی فوجی موجودگی کو پیچھے نہ ہٹانا اس بات کا عکاس ہے کہ روس واضح سطح پر مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔

تاہم ترکی کے حوالے سے سوچی سمجھوتے کے عملی اطلاق کے راستے کی رکاوٹ یہ ہے کہ آیا علاقے میں سرگرم کردار ترکی کے ساتھ ہم آہنگ کاروائی کریں گے یا نہیں۔ ادلب میں موجود سب سے بڑی فوجی طاقت اور ترکی کی حمایت کے حامل قومی آزادی فرنٹ  کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم  سوچی سمجھوتے کے اطلاق کے لئے ترکی کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہیں لیکن ہم روس، ایران اور اسد انتظامیہ پر بھروسہ نہیں کرتے۔

ترکی کے حوالے سے سوچی سمجھوتے کے اطلاق کے راستے کی احتمالی رکاوٹ  متعصب تنظیمیں ہیں۔ اصل میں  ادلب  میں موجود متعصب تنظیموں پر دو بنیادی شقوں میں غور کیا جا سکتا ہے۔ پہلی شق میں صرف ہیت التحریر الشام تحریک  ہے تو دوسری شق میں چھوٹے بڑے دیگر  متعصب گروپ شامل ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ہیت التحریر  الشام علاقے میں عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے زیر عمل پالیسی کو جاری رکھے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ تنظیم اپنے نظریاتی مفادات  کے ذریعے معتدل مخالفین  اور ترکی کے درمیان ایک توازن کی  پالیسی کو جاری رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہیت التحریر الشام کا سوچی سمجھوتے  کے بارے میں اپنے فیصلوں سے متعلق کسی بیان کا جاری نہ کرنا اہمیت کا حامل ہے۔ سوچی سمجھوتے کے اطلاق کے لئے ہیت التحریر کو اسلحے سے پاک علاقہ ترک کرنے کے لئے قائل کیا جا سکتا ہے۔

تاہم حراش الدین  جیسے زیادہ متعصب اور براہ راست القاعدہ سے منسلک گروپوں نے کھلے بندوں سوچی سمجھوتے کو رد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے ترکی اپنے حامی گروپوں کے ساتھ مل کر اس نوعیت کی متعصب تنظیموں  کے خلاف ضروری اقدامات کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

ترکی نے شام  کے ایک بڑے حصے کو داعش اور PKK/YPG جیسی دہشتگرد تنظیموں  سے صاف کیا ہے اور اب توقع کی جا سکتی ہے کہ ترکی، سوچی سمجھوتے کے اطلاق اور اپنے  قومی مفادات کی خاطر ادلب کے علاقے کو بھی وسطی اور طویل مدت میں دہشتگرد عناصر سے پاک کرے گا۔ دہشت گردی کے خلاف ترکی کی جدوجہد  کے نتیجے میں ادلب ایک اور ایسے علاقے کی شکل اختیار کر سکتا ہے کہ جہاں شامی شہری امن کی زندگی گزار سکیں گے۔

 



متعللقہ خبریں