عالمی نقطہ نظر41

تعلیم کے بنیادی اصول 2

عالمی نقطہ نظر41

عالمی نقطہ نظر 41

 

Küresel Perspektif  / 41

               Eğitimin Evrensel İlkeleri 2

Prof. Dr. Kudret BÜLBÜL

 

 

کچھ ہفتوں پہلے کے ایک جائزے میں ہم نے  کہا تھا کہ دوسرے ممالک کی    اچھی  اور خراب تعلیم     ہماری زندگی کو قریب سے متاثر کرتی ہے، لہذا ہم نے انسانی خاندان کے لئے تعلیم کے عالمی اصولوں کی ضرورت کو جذب کیا ہے.

تعلیم کے لحاظ سے دنیا بھر میں حالات کو مختصر طور پر چھونے کے بعد، پہلے دو اصولوں نے تعلیم کے فلسفہ پر توجہ مرکوز کی ہے جس کا مطلب ہے کہ انصاف کے بارے میں بیداری بڑھانے اور ان افراد کو تعلیم دینا منفی نہیں ہے.

یہ  طے  ہے کہ جو   لوگ  ممکنہ حد تک سماجی زندگی اور  اعلی اخلاقی اصولوں پر  عمل کریں گےوہ نہ تو ہمارے خیالات  کی چوری  کریں  گے اور نہ ہی کذب  زبانی کا استعمال کریں گے۔ 

 

یہ سماجی ثقافت کے  لائحہ عمل  کے اندر  عام اخلاقی قوانین کے ساتھ تعلیم کے بنیادی اہداف میں سے ایک ہونا چاہئے.

عام قوانین کو قائم کرنا مشکل نہیں ہے حتی ان اصولوں  کی  مختلف    معاشروں  میں قبولیت عام ہوتی ہے ۔

 

مندرجہ ذیل اصول تعلیم کے مواد اور طریقہ سے زیادہ متعلقہ ہیں.

 مندرجہ بالا مندرجہ بالا پہلے تین اصول (انصاف، مثبت نقطہ نظر اور اخلاقیات پر مبنی تربیت) بنیادی اقدار ہیں جو تعلیم کے تمام پہلووں پر بنائے جائیں.

 اس تربیت  کے نتائج جو ان اقدار پر مبنی نہیں ہیں یا جن میں یہ اقدار شامل  نہیں ہوں  وہ  انسانیت کے لئے بہت خطرناک ہوسکتے ہے.

عالمی جنگیں، دہشت گرد حملے،  اور ہر قسم کے قوانین جو کے  دوسروں کو تباہ کرنے کا مقصد

 رکھتے ہوں  یہ وہ  عوامل  ہیں جو اس کے ذریعے حاصل کرسکتے  ہیں۔

یہ سب مشکلات ہیں جو  تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ  بھی پیدا  ہو سکتی ہیں. یہ اقدار ایسی   ہیں جو تعلیم کے ساتھ ساتھ دیگر علاقوں میں انسانی خاندان کی حفاظت کریں  گی۔

   حدیث رسول ہے  جس میں وہ  بے فائدہ علم کے حصول سے پناہ خداوندی چاہتے ہیں۔

اصولوں    کا اگر دوبارہ ذکر ہو تو   یہ  ہر روز نئے چیلنج کا پیچھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ ہماری ذات ، ہمارے ماحول اور انسانیت کے لئے سب سے زیادہ فائدہ مند کوششوں میں سے ایک ہے.

ایک  محنت طلب طرز زندگی ہمارے معاشرے     کےلیے لازم و ملزوم ہے  تعلیم کو ہر پیشے  میں مقدس ہونا چاہئے، ہر پیشے میں محنت  کو فروغ دیناہوگا  اور یہ سکھانا ہو گا  کہ محنت میں عظمت ہے   کیونکہ  سستی ،کاہلی  اور کام چوری سے کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا ۔

جدید اور   مرکزی ریاست کے ساتھ، بڑے پیمانے پر تعلیم کا طریقہ، جس کو کسی قسم کے طور پر لاگو کیا جاتا ہے دنیا بھر میں  پھیل چکا ہے۔ اس  نظریے   نے  تعلیم  حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اس طریقہ  تعلیم نے باہمی اختلافات کو ختم کر تےہوئے لوگوں کو ایک ہی سانچے میں  ڈھال تے ہوئے برابری کا درجہ دیا ہے  البتہ یہ ضرور ہے کہ  ہر انسان  ایک الگ جان اور    جہاں ہے ۔

تعلیم کے روایتی طریقے میں افراد اکثر     ماہر-ماتحت تعلقات کے ساتھ کام کرتے ہیں. آج کے دور میں  تعلیم اور تربیتی ادارے  پیشہ ورانہ ہیں اس کے نتیجے میں ہم دیکھتے ہیں کہ تعلیمی اداروں کی طرف سے فراہم کی جانے والی تعلیم جزوی طور پر زندگی سے قریب   ہے اور بہت نظریاتی رہتی ہے.

 آئنڈینن کے بیان میں دیکھا گیا ہے کہ تعلیم یہ ہے کہ جب لوگ تعلیمی اداروں    میں جو  سیکھتے ہیں  وہ  سب کچھ بھول جاتے ہیں.

 اگر تربیت کا مقصد انسان کے لئے زندگی کو تیار کرنا ہے تو صرف  جماعتوں  میں تعلیم نہیں دی جاسکتی . تعلیمی ادارے اور تعلیم بذات خود   ایسی ہونی چا ہیئے کہ  جو ہمارے معاشرے، نجی شعبےاور دیگر شعبہ ہائے زندگی   میں تال میل  رکھ سکے ۔

 تعلیم بنیادی طور پر مستقبل کے لئے کوشش ہے نہ کہ ماضی کے لی ے ہاں اتنا ضرور ہے کہ   یہ ہمیں ماضی کے تجربات سے ضرور  مستفید کر سکتی ۔ایک ایسی تعلیم  ہونی چاہیئے کہ  لوگ اپنی صلاحیت کو سوچنے اور  اسے سامنے لانے    میں کامیاب ہو سکیں.

تعلیم  خود کی تلاش کے لئے بنیاد فراہم کرتی ہے ۔

ایک اور اصول کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ معاشرے اور نجی  شعبے پر مبنی تعلیم جس میں عوامی  اداروں کی طرف سے سماعت اور نگرانی کی جاتی ہے مرکز نہیں  ہے ۔

ظاہر ہے کہ اچھا   تعلیم یافتہ ہونا  انتہائی ضروری ہے.

اس بات  کی کوئی  ضمانت  نہیں ہے کہ مندرجہ بالا  اصول لوگوں اور معاشرے کو کس سمت  لےجانے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔اگر یہ اصول تربیتی عمل میں نہیں دیئے جائیں تو ہم  دنیا میں کئی شیطان صفت انسان پروان چڑھا سکتے ہیں۔

یاد رکھئےکہ  تعلیم  حاصل کرنا نہیں بلکہ  اس سے کہیں زیادہ اہم      اس کی اہمیت کو سمجھنا  اوربتائے اصولوں  پر عمل کرنا ہے ۔

 

 

 

 

 



متعللقہ خبریں