ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 46

ایران پر امریکی تازہ پابندیوں کے خطے اور ترکی پر اثرات

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 46

ایران پر قلیل مدت قبل  عائد کردہ امریکی پابندیوں کے بعد   اس ملک کے ساتھ تجارتی تعلقات پائے جانے والے ممالک  مختلف پہلووں سے متاثر ہوں گے۔ ایران پر عائد کی  جانےو الی پابندیوں اور اس عمل  کے ترک خارجہ پالیسیوں   پر اثرات کا جائزہ قاراتیکن یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک  کے قلم سے۔۔۔

امریکہ  کی ایران پر پابندیوں کا دوسرا مرحلہ 5 نومبر سے شروع ہوا ہے۔ دوسرے مرحلے میں تیل اور قدرتی گیس سمیت توانائی  سے متعلق تمام تر مصنوعات کی  تجارت ،  بندر گاہوں  کے انتظامات، بحری جہازوں کی تجارت، انشورنس اور بین الاقوامی بینکاری  سے متعلق سروسز کو ان پابندیوں کے دائرہ کار میں لیا گیا ہے۔ اس تاریخ سے  ایرانی قومی پیٹرولیم فرم، ایرانی پیٹرولیم ٹریڈ فرم اور نیشنل ٹینکرز فرم  پر بین الاقوامی  حد بندیاں  لائی گئی ہیں۔اس طرح  ملکی معیشت  کا  اہم سطح پر  انحصار ہونے والے پیٹرول اور اس کی مصنوعات کی درآمدات  پر پابندیوں کا اطلاق ہو گیا ہے۔  فیکٹس گلوبل انرجی  کے اعداد و شمار کے مطابق ایران کی تیل کی برآمدات میں ویسے بھی ماہ اپریل کے بعد سے گراوٹ کا عمل جاری تھا۔  پابندیوں کے اطلاق کے بعد ایران کی یومیہ تقریباً تین ملین  بیرل ہونے والی برآمدات کے  ایک ملین بیرل تک گرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ نومبر و  دسمبر کے   مہینوں میں ایران کی یومیہ تیل کی برآمدات کے   1٫3 تا 1٫4  ملین بیرل  جبکہ آئندہ برس کے اوائل سے اس مقدار کے یومیہ ایک ملین بیرل تک گرنے کی توقع کی جاتی ہے۔

تیل پیدا کرنے والے ممالک  نے ایران پر پابندیوں  کے مالی منڈیوں میں اثرات کو کم سے کم سطح تک رکھنے  کے لیے پیداوار میں اضافہ کرنے اور اس عمل کو آئندہ بھی  جاری رکھنے پر اٹل ہونے پر  زور دیا ہے۔یہ صورتحال عالمی منڈیوں میں ایران پر تیل کی برآمدات پر پابندیوں سے تیل کی قلت  کے خلاف توازن قائم  کرے گی۔ عالمی  سطح پر تیل کے نرخوں میں  قلیل المدت اضافے کے بعد اس میں توازن  آنے  کا احتمال قوی ہے۔ لہذا آئندہ کے دور میں  اس کے نرخوں کا 75  اور 85 ڈالر کے درمیان  ہونا ایک غیر  متوقع پیش رفت نہیں ہو گی۔ ہمارے پاس موجود اعداد و شمار  بھی  عالمی سطح پر تیل کی مانگ میں اضافے  کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی  کی ماہانہ پیٹرول منڈی رپورٹ کے مطابق اوپیک  کی خام تیل کی یومیہ پیداوار ایک لاکھ بیرل کے اضافے کے ساتھ 32 ملین 7 لاکھ 80 ہزار بیرل تک پہنچتے ہوئے  گزشتہ ایک برس کی بلند ترین  سطح  کو پہنچ چکی ہے۔ ماہ ستمبر میں اوپیک کے  اندر سب  سے زیادہ  یومیہ پیداوار اضافہ  سعودی عرب  میں دیکھا گیا۔ اس ملک میں یومیہ تیل کی پیداوار 10 ملین  5 لاکھ 20 ہزار بیرل تک ہو گئی ہے۔

امریکہ کی ان نئی اقتصادی پابندیوں  میں ایک نئی چیز بھی سامنے آئی ہے، یہ پابندیاں نہ صرف ایران کو بلکہ اس کے ساتھ تجارتی تعلقات ہونے والے ممالک کو بھی ہدف بناتی ہیں۔ ترکی سمیت چند ممالک کو اس پابندی سے جزوی  اور عارضی طور پر مبرا رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ  نے اس شکل میں ایران پر   اس سے قبل کبھی بھی عائد نہ ہونےکی حد تک اقتصادی   دباؤ ڈالا ہے۔

یاد رہے کہ ٹرمپ نے انتخابی مہم میں ایران کے ساتھ سال 2015 میں طے پانے والے معاہدے کی مخالفت کی تھی۔  انہوں نے صدر منتخب ہونے کی صورت میں آنکھوں میں دھول جھونکنے کے طور پر بیان کردہ معاہدے سے دستبرداری  کیے جانے کا عندیہ دیا تھا۔ آخر کار ٹرمپ نے امسال ماہ مئی میں اپنے اس وعدے کوپورا کر دکھایا اور یکطرفہ طور پر مذکورہ معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنے کا سرکاری طور پر اعلان  کر دیا۔

ٹرمپ انتظامیہ کا اس معاملے میں جواز کچھ یوں ہے کہ اس معاہدے کے ذریعے   ایران کو جوہری اسلحہ   کی تیاری سے باز نہیں رکھا جا سکتا۔ تا ہم  پابندیوں   کے عقب میں پوشیدہ  بعض  دوسری وجوہات، ایرانی انتظامیہ  کی خطے میں اپنے اثرِ رسوخ میں اضافے کی کاروائیاں ، شام میں مداخلت  ، حزب اللہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی پر مبنی ہیں۔

صدر ٹرمپ ایرانی انتظامیہ کو ان پابندیوں کے اطلاق سے  اس طرز کی پالیسیوں سے باز رکھنے  کا مقصد  رکھتے ہیں۔  یہ منصوبہ بندی کچھ یوں دکھائی دیتی ہے:پابندیوں سے ملک میں معاشی مسائل  عوام کو تنگ کر کے رکھ دیں گے، جس سے   ملکی انتظامیہ   سخت دباؤ پیدا ہو گا  اور نتیجتاً اقتدار میں تبدیلی آئیگی یا پھر حکومت اپنی پالیسیوں کو بدلنے پر مجبور  ہو جائیگی۔

ترکی ایران پر پابندیوں کے یکطرفہ اطلاق کی بنا پر اصولی  طور پر اس عمل کی مخالفت کر رہا ہے۔ ایران ، ترکی کی قدرتی گیس کی درآمدات میں دوسرے نمبر پر ہے،  ترکی اس ملک سے سالانہ تقریباً ساڑھے نو ارب  مکعب میٹر  قدرتی گیس خریدتا ہے اور  ترکی کی مانگ  کو ضمانت میں لینے کی بنا پر اس تجارت کے جاری رہنے کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ سن 2017 کے اعداد وشمار کے مطابق ترکی  کی جانب سے تیل درآمد کردہ ممالک میں   ایران سرِ فہرست ہے۔ مزید برآں ترکی قلیل عرصے میں ایران کے ساتھ باہمی تجارت کو  مقامی کرنسی کےذریعے بھی سر انجام دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ترکی تیل اور اس کی مصنوعات  کے استعمال میں بچت کرتے ہوئے مالی منڈیوں میں پیدا ہو سکنے والے  ڈیمانڈ۔سپلائی  عدم توازن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر سکتا ہے۔

اس حوالے سے ماضی کی مثالوں کا جائزہ لینے سے  اس بات کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ اقتصادی پابندیوں سے مطلق العنانی انتظامیہ میں تبدیلیاں   نہیں لائی  جا سکتیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں اقتصادی  پابندیوں کے وجود کا  تاریخ میں ایک قدیم عرصے  قبل  سے ہی  موجود ہونے کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ البتہ پابندیاں ، اطلاق کرنے والے ممالک  یا پھر فیصلہ کرنے والوں کی جانب سے مقصد ہونے والی پالیسیوں میں تبدیلیاں آنے میں کامیاب بن سکتی ہیں۔ سیاسی علوم، بین الاقوامی تعلقات اور اقتصادی لٹریچر میں  پابندیوں سے تجارتی حجم  اور معاشی  پیداوار میں گراوٹ آنے اور سماجی خوشحال کو منفی لحاظ سے متاثر کرنے کی معلومات کا  بکثرت وجود ملتا ہے۔ علاوہ ازیں  پابندیوں کا سامنا کرنےو الی  حکومتوں  کے  ساتھ نا انصافی  کیے جانے کا تاثر پیدا  ہونے  اور عوام میں اپنے سربراہان کے ساتھ  ہمدردی میں   اضافہ ہونے کا  بھی بار مشاہد ہ ہو چکا ہے، اسی طرح پابندیاں عائد کرنے والی طاقتوں کے   خلاف عالمی اتحاد پیدا ہونے کا  بھی مشاہدہ کرنا ممکن ہے۔  بڑے افسوس  کی بات ہے کہ ایسی پابندیاں عوام کو متاثر کرتی ہیں،  اس کا خمیازہ شہریوں کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔  اس قسم کی پابندیاں   خاصکر ڈکٹیٹر شپ کا راج ہونے والے  ممالک   میں  انتہا پسندی کو مزید شہہ دے سکتی ہیں۔ ایران  کے لیے بھی نئی پابندیوں کا اطلاق اس طرز کے نتائج جو جنم  دے سکتا ہے۔ اس بات کا احتمال بھی موجود ہےکہ موجودہ صورتحال ایران  کو مشرق وسطی میں اپنی پالیسیوں کو  مزید سخت کرنے پر بھی مجبور کرے گی۔

نتیجتاً  یہ ایران کے حوالے سے نئی صورتحال بین  الاقوامی  پلیٹ فارم میں  نئے  تناؤ اور دشمنی کی فضا کو جنم دے سکتی ہے۔ اقتصادی  شعبے میں تیل کے نرخوں  میں ممکنہ اتار چڑھاؤ کئی ایک ممالک میں افراطِ زر اور جمود کاموجب بن  سکتا ہے۔



متعللقہ خبریں