پاکستان ڈائری - 47

پاکستان ڈایری میں اس بار ہم آپ کی ملاقات کروایں گے امریکہ میں مقیم معروف پاکستانی صحافی ثاقب الاسلام سے وہ وایس آف امریکا کے ساتھ 9 سال سے منسلک ہیں

پاکستان ڈائری - 47

پاکستان ڈائری - 47

پاکستان ڈایری میں اس بار ہم آپ کی ملاقات کروایں گے امریکہ میں مقیم معروف پاکستانی صحافی ثاقب الاسلام سے وہ وایس آف امریکا کے ساتھ 9 سال سے منسلک ہیں۔اپنے کرئیر کے دوران وہ تین امریکی صدارتی الیکشن کور کرچکے ہیں۔اس کے ساتھ انہیں دنیا کے سب سے بڑے ایوراڈز آسکرز کور کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہے ۔آج کل آپ انہیں ویو 360 پروگرام کے میزبان کے طور پر امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ اور آج ٹی وی پر دیکھ سکتے ہیں ۔

ثاقب الاسلام  راولپنڈی میں پیدا ہویے ۔

ٹی آر ٹی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے ثاقب نے بتایا کہ ابتدائی تعلیم انہوں نے راولپنڈی سے حاصل کی اور ہائی اسکول میں سائنس کے مضامین پڑھے ۔سرسید کالج راولپنڈی سے پری انجنیئرنگ میں ایف ایس سی اور اسلام آباد میں کامرس کالج سے بی کام کی ڈگری حاصل کی۔وہ کہتے ہیں کہ میرے والد سرکاری ملازم تھے ہم پرائیوٹ ادارے ایڈورڈ نہیں کر سکتے تھے اس لئے میں نے ابتدائی تعلیم سرکاری تعلیمی اداروں میں حاصل کی۔اس دوران میں نے اعلی تعلیم کے لیے بھی اپلائی کردیا اور امریکہ کی یونیورسٹی سے مجھے کال آگی۔

اپنے والدین کے حوالے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے والد سرکاری افسر رہے اور چالیس سال انہوں نے ملازمت کی ۔۲۰۰۱ میں جب وہ ریٹایرڈ ہوئے تو پینشن کی مد میں ملنے والے پیسے سے انہوں نے میری تعلیم امریکا میں تعلیم کو سپانسر کردیا۔میری اعلی تعلیم کی بہت خواہش تھی میں باہر کی دنیا کو کھوجنا چاہتا تھا میرے اندر تجسس تھا اس سلسلے میں میرے والد نے میری مدد کی اور مجھ اعلی تعلیم کے لیے بیرون ملک بھیج دیا۔وہ کہتے ہیں میری والدہ نے میری سوچ میں پختگی پیدا کی مجھے سیاسی اور ملکی امور پر آگاہی دی ۔وہ ایک سماجی کارکن تھیں اور خواتین کے لئے کام کرتی رہیں ۔انہوں نے سیاست میں بھی حصہ لیا اور بلدیاتی الیکشن میں راولپنڈی سےکونسلر منتخب ہوئیں ۔2008 میں وہ رحلت فرما گئ۔

اپنے امریکا کے سفر کے بارے میں ثاقب الاسلام کہتے ہیں کہ امریکا آنا بہت دلچسپ رہا جو میرے ذہن میں خاکہ تھا امریکہ اس سے الگ تھا۔جب میں نے شکاگو لینڈ کیا سخت سردی تھی ہر چیز پر برف کی چادر تھی۔میرا کالج انڈیانا سکول آف ٹیکنالوجی تھا مڈ ویسٹ امریکی ریاست میں اپنی تعلیم حاصل کی۔دور دور تک آبادی نہیں تھی پھرمیں نے امریکا کے بڑے بڑے شہر وزٹ کئے ۔میں نے بالٹی مور میں ایک سال تعلیم حاصل کی۔پھر ورجینا میں یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا اور پبلک پالیسی میں ایم بی اے کیا۔ماسٹرز کے دوران مجھے موقعہ ملا کہ میں کچھ اخباروں کے ساتھ انٹرن شپ کرو۔دوران انٹرن شپ میں نے خبر اور پروڈکشن سیکھی ۔آخری سمسٹر میں مجھے وائس آف امریکہ میں انٹرن شپ کا موقع ملا ۔2008 میں الیکشن کی گہماگہی تھی مجھے الیکشن کوریج کا موقع ملا اور میں نے بہت کچھ سیکھا۔ جب میری ڈگری مکمل ہوگئ مجھے وائس آف امریکہ سے جاب کی آفر آگئی ۔میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہو کہ میری پہلی اسائنمنٹ ہی امریکہ کے سیاہ فام صدر بارک اوبامہ کا حلف تھا میں نے اسکی لائیو کوریج کی۔وہ پاکستان میں جیو پر بھی نشر ہوا ۔بحیثیت رپورٹر میں نے امیگریشن، تعلیم، پھر امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں پر شوز کئے دور دراز سفر کیا یہاں پر 18 ویں صدی سے مسلمان مقیم ہیں ۔صدارتی انتخابات کے ساتھ ساتھ ثاقب نے آسکرز ایوارڈ کو بھی کور کیا۔وہ کہتے ہیں کہ ہالی ووڈ کے اداکاروں کو اپنے سامنے دیکھ کر اور انکے انٹرویوز لے کر بہت خوشی ہوئی۔اس کے ساتھ بہت سے کامیاب امریکی شہریوں کے حوالے سے پروگرام ترتیب دئے ۔حال ہی میں دو مسلمان خواتین گانگریس کے لئے منتخب ہوئی ہیں ۔ ان میں سے ایک گانگریس ویمن  الہان عمر کی کمپین کو مجھے فالو کرنے کا موقع ملا۔ان کے بارے میں جاننا انکے انٹرویو کرنا بہت بڑا موقع تھا۔

ثاقب الاسلام کہتے ہیں کہ وائس آف امریکہ میں ہر شعبے میں کام کرنے کا موقع ملا میزبانی، پروڈکشن، رپورٹنگ، ریڈیو، ہوسٹنگ اور ویب ایڈیٹر کے طور پر کام کیا۔جب سوشل میڈیا کے دور شروع ہوا تو میں نے وائس آف امریکہ کے سوشل میڈیا اکاونٹس کو بھی مینج کیا ۔آرٹ اور کلچرل کو بھی کور کرنے کا بھرپور موقع ملا ۔پاکستان فیسٹول اور پاکستانی موویز کے پریمیئر کو بھی کور کیا۔ثاقب گزشتہ چار سال سے پاکستان فیسٹول کی میزبانی بھی کررہے ہیں ۔

وہ کہتے ہیں اس وقت میں ٹی وی پروگرام ویو 360 کو ہوسٹ کررہا ہو۔جوکہ پاکستان میں آج ٹی وی پر نشر ہوتا ہے۔ثاقب الاسلام کو اب تک وائس آف امریکہ کی طرف سے 8 اعزازت کی طرف سے نوازا گیا ۔

وہ کہتے ہیں پاکستان میں صحافیوں کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے جن میں سیکورٹی ایشو ہے سنسر شپ ایشو ہے اور تنخواہوں میں تاخیر جبکہ یہاں پر ایسا نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں بطور صحافی انہوں نے خود کو امریکا میں احتجاج کی کوریج کے دوران بھی غیر محفوظ نہیں سمجھا ۔یہاں پر لائف آسان ہے ۔صحافتی اصولوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رپورٹنگ سے پہلے یہاں بہت تیاری کرنا پڑتی ہے آپ کو اجازت لینا پڑتی ہے آپ کسی کے بھی آگے مائیک نہیں کرسکتے ۔آپ کسی بھی پرائیوٹ جگہ گھر کی ویڈیو نہیں بنا سکتے کم سن بچوں کو ٹی وی پر نہیں لاتے۔یہاں پر پرایویسی کا خیال رکھا جاتا ہے۔

 ۔اپنے مشاغل کے بارے میں بات کرتے ہوئے ثاقب الاسلام نے کہا کہ میں 24 گھنٹے تو صحافی ہو لیکن جب ویک اینڈ پر فراغت ہو تو وہ آپ کا اپنا وقت ہے ۔میں ایکٹنگ کرتا ہو مقامی تھیٹر میں یہ میرا شوق ہے۔سپورٹس کا مجھے شوق ہے کرکٹ ، رگبی خاص طور پر پسند ہے۔موویز بھی دیکھنے کا بہت شوق ہے ۔اگر میں صحافی نا ہوتا تو موویز کے ریویو کررہا ہوتا ۔آسمان پر اڑنے کا شوق ہے سکائی ڈیونگ بھی میری ہابیز میں سے ایک ہے۔

اپنی روٹین کے بارے میں کہا صبح جلد اٹھ جاتا ہو صبح 4 بجے شفٹ کا آغاز ہوتا ہے۔تاہم ویک اینڈ فری ہوتا ہے۔اپنے فالورز کے لئے انہوں نے پیغام دیا کہ وہ کہتے ہیں میں سٹوڈنٹ آف لائف ہو میں خود سیکھنے کے عمل میں ہو لیکن میں یہ کہنا چاہتا ہو کہ جو آپ کرنا چاہیئں اسکو مکمل لگن کے ساتھ کریں کامیابی ضرور ملیں گی۔سیلف لیس ہوکر کام کریں۔

 



متعللقہ خبریں