عالمی نقطہ نظر47

شرق شناسی کا قیام

عالمی نقطہ نظر47

عالمی نقطہ نظر47

 

Küresel Perspektif  / 47

           Yerlileşen Oryantalizm

 

Prof. Dr. Kudret BÜLBÜL

 

 

مغربی محققین  نے  شاہی نظام  سے متعلق  مشرقی اقوام کےلیے سیاسی ، سماجی ،ثقافتی ،دینی،نسلی  وغیرہ اقدار  کے  تناظر میں   اپنی تحقیق کو  "استشراق" یا  "شرق شناسی"  کا نام دیا  جو کہ  مشرقی اقوام   کے مقابلے میں خود کو بالاتر سمجھنے کے مترادف تھا ۔

 شرق شناسی   پر تحقیق کا رواج آج بھی برقرار ہے  لیکن اس میں  کافی تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ ماضی  کی طرح     مغربی محققین  مشرق جا کر  اب تحقیق کرنے کی ضرورت کو کافی نہیں سمجھتے  کیونکہ  مشرقی ممالک  کے محققین کا یہ ماننا ہے کہ  وہ اب یہ فریضہ مغرب  جا کر خود پورا کریں گے۔

مغربی تہذیب  کے خلاف    ترکی اور جاپان جیسے ممالک نے  تقریباً 200 سال تک   مغرب میں اپنے محققین  ،طلبہ اور ماہرین بھیجے ۔ اسی طرح کا طریقہ کار آج کی دنیا میں  ، افریقی ،بلقانی،عرب ،لاطینی امریکہ اور مشرقی بعید  کے ممالک میں رائج نظر آتا ہے ۔ یہ طریقہ کار جامعات تک ہی  محدود نہیں ہے بلکہ  اب  وزرا اور دیگر  سرکاری ملازمین بھی  شعبہ  تعلیم،سائنس اور ثقافت  سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں جس کی انہیں کافی بھاری مالیت بھی ادا  کرنا پڑ رہی ہے ۔ جاپانیوں نے مغرب جا کر  وہاں سے سائنس  و ٹیکنالوجی   سے حاص کردہ تجربات کا اپنے ملک جا کر بخوبی استعمال کیا مگر ہمارے  طلبہ   وہاں سے لوٹنے کے بعد شاعر ہی بن سکے  جو کہ ہمارے لیے کسی المیے سے کم نہیں ۔

 جو محققین مغرب سے فارغ التحصیل ہوئے ان  کی اکثریت  نے           ترکی سے متعلق یہ اپنے جائزات اور تحقیق کو محور مرکز بنائے رکھا  جس کا سامنا تاحال  کرنا پڑ رہا ہے۔

غیر مغربی اقوام کے طلبہ  جب  مغرب  میں  حصول  تعلیم میں مصروف   ہوتے ہیں تو انہیں بعض اوقات مختلف اسباب کی وجہ سے   منفی نتائج   بھی برداشت کرنا پڑتےہیں  اور وہ  اپنے  آبائی ملکوں کے مسائل پر تحقیق کے بجائے زیر تعلیم ممالک     کی صورت حال  پر توجہ مرکوز کرتےہیں اور   اپنی ماہرانہ  قابلیتوں کو مغربی  نظریات کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔

جہاں تک ترکی کا سوال  ہے تو اس نے دو عصروں کے دوران  امریکہ،فرانس  اور جرمنی جیسے ممالک  میں  کافی کم تعداد میں ماہرین  تحقیق کےلیے روانہ کیے  جس کے  جواب میں   ترک وظیفوں پر مغربی ممالک میں تعلیم حاصل کرنے  والے   ترک امور  پر ماہرین کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔مغربی ممالک   سے وابستہ موضوعات پر   ماہرین کی جہاں کمیابی ہے وہیں   ترکی سے متعلقہ امور پر ماہرین،  مغربی  نشریاتی اداروں اور اخبارات و جرائد میں اپنا قلم اور الفاظ  اگلتے نظر آتے ہیں۔

 غیر مغربی   طلبہ   جب تعلیمم کےلیے مغرب کی راہ لیتے ہیں تو وہ  حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں ،نسلی مسائل، اقلیتی امور،حساس موضوعات اور مذہبی تحاریک جیسے شعبوں  پر  مہارت حاصل کرتے ہیں جس کے نتیجے میں اُنہیں  شرق شناسی کی  ضرورت نہیں  پیش آتی  چونکہ اگر مغربی ماہرین کو یہ ذمے داری سونپی جائے تووہ  متعلقہ ممالک کے سماجی ڈھانچے اور  مقامی زبان  پر عبور  حاصل کرنے میں اپنا وقت اور پیسہ دونوں  خرچ کریں گے جو کہ کسی طور  مفید نہیں ہوگا لیکن ،اگر   مغرب سے  تعلیم یافتہ   ماہر   اور ایک مقامی  محقق  ان تمام  شعبوں پر تحقیق کرے  تو یہ  ایک  سود مند ذریعہ  ثابت ہو سکتا ہے۔

 یہ جائزہ آپ کی خدمت میں  انقرہ کی یلدرم بایزید یونیورسٹی کے شعبہ سیاسی علوم کے پروفیسر ڈاکٹر قدرت بلبل کے قلم سے پیش کیا  گیا ۔

 


ٹیگز: عالمی

متعللقہ خبریں