ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 47

شامی ترکمانوں کا شام کے مستقبل میں کردار

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 47

شامی ترکمانوں  نے گزشتہ دنوں شامی علاقے چوبان بے میں ایک اہم کانگرس کا اہتمام کیا۔ کانگرس اور اس کے ترک خارجہ پالیسی پر اثرات کا جائزہ قارا تیکن یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک کے قلم سے ۔۔۔۔۔

شامی ترکمانوں کی سن 2011 سے ابتک جاری' وقار و آزادی'  کی جدوجہد ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی ہے ۔شام کے اندر سیاسی و عسکری توازن میں تبدیلی اور مشرق وسطی میں علاقائی توازن کی موجودہ صورتحال کے باعث اب  شام میں اہم اداکاروں میں سے ایک شامی ترکمان  ہیں۔اسوقت شامی ترکمانوں اور ان کی نمائندہ ترکمان اسمبلی سیاسی اور سفارتی طور پر شام میں ترکمان عوام کے مفادات کے تحفظ اور ان کے مستقبل کو ضمانت میں لے سکنے کے لیے آئندہ کے سلسلے میں سیاسی حل مذاکرات میں شمولیت  کی جدوجہد میں مصروف ہے۔

شامی ترکمانوں کا خطے اور عالمی پلیٹ فارم میں اہم ترین ہدف شامی سر زمین کی سالمیت کے تحفظ اصول پر  ترکمانوں  کے نئے شامی آئین کی رو سے اس ملک میں اپنے وجود کو تسلیم کرانا ، تحفظ حاصل کرنا اور ضمانت میں لیےجانے والے کسی قانونی حیثیت کا مالک بننا ہے۔میں اس حوالے سے سمجھتاہوں کہ ان کا اولیت کا مطالبہ ْبانی عوام ْ کی حیثیت  کا حصول ہو گا۔

شامی ترکمانوں نے اس ہدف کے حصول کے لیے  آئند ہ کے سلسلے میں شام میں سیاسی استحکام کے قیام میں خدمات فراہم کر سکنے کے لیے تمام تر طرفین کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے تیار ہونے کا گزشتہ دنوں رائے عامہ کے سامنے واضح طور  پر اظہار کیا تھا۔ اس معاملے میں ترکمانوں کی واحد سرخ پٹی شام  اور ترکی کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے  والی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ایک ہی پلیٹ  فارم پر جگہ نہ پانا ہے۔ اس معنی میں شامی سر زمین کی سالمیت کے خلاف مختلف کاروائیوں میں ملوث ہونے والے انتہا پسند اداکاروں  کو شامی مستقبل کا تعین  ہونےو الے پلیٹ فارم میں مدعو  نہ کیا جانا ایک صحیح فعل ہو گا۔ ترکمانوں نے آئندہ کےدور میں ہر طرح کے منقسم  ڈھانچے  و اختیارات کی مخالفت کرنے کا برملا اعلان کیا  ہے جو کہ ایک درست اقدام ہے۔ کیونکہ  ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے والے نسلی و مذہبی گروہوں کو فیڈرل یا پھر خود مختاری کا درجہ دیے جانے سے کس طرز کے منفی نتائج پیدا ہونے کا عراق میں مشاہدہ کیا جا چکا ہے۔ عراق میں داعش کے جنم لینے کی نمایاں وجوہات میں سے ایک یہی تھا۔ ترکمان کسی وفاقی  یا پھر خود مختار علاقے کا مطالبہ نہیں  کر رہے چونکہ یہ اس چیز کو ملکی بٹوارے کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ اپنے سمیت تمام تر عوام کے بنیادی حقوق وآزادی کے مالک  ہونے والے ایک متحدہ  مملکت کے ماڈل کا دفاع کرتے ہیں۔

دوسری جانب ترکی کے تعاون سے شام میں دہشت گردوں سے پاک کیے جانے والے علاقوں میں زندگی معمول پر آرہی ہے۔سول سوسائٹی بتدریج مظبوطی پکڑ رہی ہے، ہم نے اس کی ایک مثال کا گزشتہ دنوں مشاہدہ کیا تھا۔شامی ترکمانوں نے  شامی ترکمان مجلس کی قیادت میں شام کے چوبان بے شہر میں ایک علاقائی کانگرس کا اہتمام کیا، جس میں حلب، ادلیب، بایر۔بوجاک، راقہ، ہما ، حُمص، تارتوس، درعا، گولان اور دمشق  کے ترکمان طبقے کی نمائندگی کرنے والے اڑھائی سو کے قریب وفود نے شرکت کی۔

شامی حزاب اختلاف میں جگہ پانے والے  مختلف پرچم استعمال  کیاکرتے تھے۔ترکمان طبقہ کچھ مدت  سے شامی حزب اختلاف میں طاقتور طریقے سے نمائندگی کرنے کی خواہش کا مختلف پلیٹ فارموں پر اظہار کرتا چلا آرہا  تھا۔ ترکمان مجلس نے ان مطالبات کا جمہوری طریقے سے خیر مقدم کرنے کے لیے  ایک کنونشن کے  انعقاد کا فیصلہ کیا ۔

اس کنونشن میں شامی ترکمان مجلس کے ارکان؛شامی  ترکمان طبقے کے رہنماوں؛ ترکمان عسکری گروہوں کے کمانڈروں، ترکمان شہری تنظیموں کے سربراہان  اور عوامی نمائندوں نے شرکت کی۔

نو قبیلوں کے درمیان ہونے والی رائے شماری  کے ساتھ ان کے نو پرچموں میں سے ایک کا انتخاب کرتے ہوئے اسے تمام تر ترکمانوں کے نمائندہ پرچم کی حیثیت دے دی گئی۔ اس پرچم کا نیلا رنگ ترک النسل ہونے، سرخ رنگ شہدا کے خون جبکہ سفید رنگ کائناتی انسانی اقدار کی نمائندگی کرتا ہے۔ پرچم پر موجود  چاند ستارہ  دین اسلام کی  تصویر کشی کرتا ہے۔ علاقے میں امن و سلامتی  کی علامت ہونے والے اس کنونشن کے بعد ترکی سے علاقے کو انسانوں کی واپسی  کے عمل میں تیزی آنے کی توقع کی جاتی ہے۔

شامی جغرافیہ میں  مقیم قدیم طبقوں میں شامل ترکمان  ساتویں صدی سے اسی سرزمین پر اپنی زندگیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حلب، ادلیب، بایر۔بوجاک، راقہ، ہما ، حُمص، تارتوس، درعا، گولان اور دمشق میں ان کا وجود پایا جاتا ہے۔شامی ترکمان صد ہا سال سے رہائش کردہ سرزمین  اور اپنی شناخت کے تحفظ کے لیے آج سنجیدہ سطح پر سرگرداں ہیں۔

صدیوں سے شام میں، شامی عوام سے ہٹ کر یہ اپنی پہچان کا تحفظ کیے ہوئے ہیں۔اسوقت شام میں ترکی زبان بولنے والے تقریباً 15 لاکھ ترکمان آباد ہیں۔ ترکی زبان کو بھول جانے والے ترکمانوں کے ہمراہ ان کی مجموعی تعداد 30لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

شامی ترکمان شام میں عربوں کے بعد سب سےزیادہ نفوس کا حامل ایک طبقہ ہیں۔لیکن یہ اس کے ساتھ ساتھ اس ملک میں سب سے زیادہ حق تلفیوں اور ناانصافیوں  کا شکار ہے۔ ان کا کبھی بھی کسی نسلی مذہبی دہشت گردوں سے کوئی تعلق نہیں رہا اور انہوں نے ہمیشہ سے ہی شامی زمینی سالمیت کا دفاع  کیا ہے، اب یہ لوگ مذاکرات کی میز پر اپنے حقوق کا بذاتِ خود دفاع کرنے کے خواہاں ہیں۔

آج ہم جس مرحلے پر پہنچ چکے ہیں اس میں اگر ترکمانوں کو حق بجانب حقوق فراہم کیے جاتے ہیں تو یہ شام میں کسی پائدار امن کے قیام میں ایک انتہائی اہم قدم ہو گا۔ علاوہ ازیں اسی وسیلے سے  ترکمان لوگ قائم کیے جانے والے نئے جمہوری شام میں جمہوریہ ترکی اور ترک برادری کے ساتھ باہمی تعلقات  میں آسانیاں لانے والے کسی عمل کا حصہ بن سکیں گے۔



متعللقہ خبریں