ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 48

ٹرکش اسٹریم منصوبے کے مفادات اور پس پردہ حقائق

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 48

قلیل مدت قبل ٹرکش اسٹریم قدرتی گیس پائپ لائن  منصوبے کے سمندری  حصے  کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا گیا ہے۔ ٹرکش اسٹریم  منصوبے کی تازہ صورتحال اور اس کے ترک خارجہ پالیسی پر اثرات  کے  حوالے سے  قارا تیکن یونیورسٹی کے شعبہ انٹرنیشنل ریلیشنز کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک کا جائزہ۔۔۔۔

آج کل  ترک خارجہ پالیسی  میں نئے رحجان کا اشارہ دینے والے تین واقعات  پیش پیش ہیں۔  جن میں سے ایک "ٹرکش اسٹریم"  نام کے حامل ترک ۔ روسی قدرتی گیس پائپ لائن منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل پر گزشتہ دنوں استنبول میں منعقدہ ایک تقریب  ہے۔  دوسرا واقع  جمہوریہ ترکی کے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو  کے واشنگٹن میں امریکی ہم منصب مارک پومپیو کے ساتھ  جامع مذاکرات پر مبنی ہے جبکہ تیسرا واقع  یورپی یونین کے اعلی سطحی حکام کا دورہ انقرہ اور ترک حکام کے ساتھ ترکی۔ یورپی یونین تعلقات سے متعلق   مذاکرات کو تشکیل دیتا ہے۔ چند دنوں کے وقفے  کے ساتھ رونما ہونے والے یہ تینوں واقعات تر ک خارجہ پالیسی  کے "کثیر الجہتی " کردار  کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ہم  ترک خارجہ پالیسی کے  تازہ ترین ایجنڈے کے طور پر  روس کے ساتھ باہمی تعلقات  میں"پیش رفت"، یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو "معمول پر لانا" اور امریکہ  کے ساتھ پیدا ہونے والی کشیدگی کو  مکمل طور پر ختم کرنا، کو بیان کر سکتے ہیں۔

قلیل مدت پیشتر  ٹرکش اسٹریم قدرتی گیس پائپ لائن کے سمندری حصے  کی تعمیر کا کام پایہ تکمیل کو پہنچا۔ استنبول میں منعقدہ تقریب میں ٹرکش اسٹریم  منصوبے  کے دائرہ کار میں سمندر میں اتاری جانےو الی آخری پائپ  کو صدر رجب طیب ایردوان اور روسی صدر ولا دیمر پوتن کی موجودگی میں اتارتے ہوئے اس  مرحلے کو نکتہ پذیر کیے جانے کی خوشی منائی گئی۔ ٹرکش اسٹریم  نیچرل گیس پائپ لائن،  ترکی کی نئی بین الاقوامی سیاسی پالیسیو  ں کی کامیابی اور نئے  افق کا مژدہ دیتی  ہے۔

منصوبے کا روسی سر زمین آناپا سے شروع ہوتے ہوئے ترکی کے تھریس علاقے تک  کا حصہ مکمل ہو چکا ہے۔ ٹرکش اسٹریم کی بدولت ترکی کہیں زیادہ سستی قدرتی گیس خرید سکے گا۔ کیونکہ قدرتی گیس  اس  کی وساطت سے کسی ٹرانزٹ ملک  کے بجائے براہ راست ترکی پہنچے گی۔  ترکی اسوقت یوکیرین، موولڈووا، رومانیہ، بلغاریہ پائپ لائن کے ذریعے سالانہ 14 ارب کیوبک میٹر قدرتی گیس خریدتا ہے۔ اس منصوبے  کے تحت اب روس سے براستہ بحیرہ اسود  قدرتی گیس کاحصول ممکن بن جائیگا۔ یہ  صورتحال ٹرانزٹ ادائیگی کے بغیر زیادہ سستے داموں قدرتی گیس  کی ترسیل کو ممکن بنا رہی ہے۔ آئندہ کے ایام میں روس ۔ یوکیرین یا پھر روس۔ رومانیہ/ بلغاریہ کے درمیان  پیدا ہو سکنے والے کسی ممکنہ بحران سے متاثر نہیں ہو گا۔ ٹرکش اسٹریم کی سالانہ گنجائش 63 ارب کیوبک میٹر ہے۔ اس منصوبے کے تحت ترکی 14 ارب کیوبک میٹر  داخلی منڈی  اور باقی ماندہ 49 ارب کیوبک میٹر قدرتی گیس  کی یورپ کو ترسیل کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

آج  مغربی ممالک کی دہری پالیسیاں ترکی اور روس کو ایک دوسرے کے قریب آنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ لہذا بین الاقوامی اور علاقائی اعتبار  سے ٹرکش اسٹریم منصوبہ  ایک ساز گار سیاسی ماحول کو جنم دے رہا ہے۔ ٹرکش اسٹریم منصوبہ ایک جانب قدرتی گیس کی مانگ کو تحفظ دے گا  تو دوسری جانب اس میں متبادل لانے   کے امکانات محدود ہیں۔ ترکی  کی توانائی کی ضرورت کے  72 فیصد کا دارو مدار  درآمدات پر ہے۔ ترکی کی قدرتی گیس کی مانگ  کا روس پر انحصار  نجی شعبے سمیت  42فیصد جبکہ نجی شعبے کے بغیر 29 فیصد  کے لگ بھگ ہے۔

ٹرکش اسٹریم منصوبہ ترکی کے عالمی توانائی  کی  ترسیل کو تحفظ میں لینے کی منصوبہ بندی ہونے والے کسی ہب کی حیثیت رکھتا  ہے   اور یہ اس ملکک کو انرجی ٹرانزٹ ملک کے ہدف کو پانے میں معاونت فراہم کرے گا۔ یہ محض خریدی گئی قدرتی گیس کی   لائن کو تبدیل کر رہا ہے۔  اس منصوبے کی وساطت سے خطہ یورپ کو پہنچائی جانے والی  قدرتی گیس کا ترکی کی سر زمین سے گزر  اسے خطے کے مرکز ِ توانائی کی حیثیت دلائے گا۔ روسی قدرتی گیس کی براستہ ترکی یورپ کو ترسیل ترک۔روسی تعلقات  کو پختگی   دے گی۔ علاوہ ازیں اس کے ساتھ ساتھ ترکی۔ یورپی یونین تعلقات میں توانائی کے حوالے سے ایک نئے دور کا آغاز بھی  ہو سکتا ہے۔

ٹرکش اسٹریم منصوبہ  روس کے ترکی پر بھروسے کا مرہون منت ہے۔ یہ توانائی ی ترسیل میں ایک نئی گزرگاہ  کی تشکیل اور دونوں ممالک کے  باہمی تعلقات  میں  مثبت  پیش رفت  کے لحاظ سے بھی اہم ہے۔ علاوہ ازیں ترکی  کے پہلے جوہری پاور اسٹیشن  آک قویو   کی ایک روسی فرم کی جانب سے تعمیر بھی دو طرفہ تعلقات  کو کسی نئے مرحلے میں داخل کرنے  میں بار آور ثابت  ہو رہی ہے۔

حالیہ ایام میں عالمی سطح  س پر اہم توانائی منصوبوں میں جگہ پانےو الا ترکی،  توانائی کے ہب بننے کی  راہ میں ٹرکش اسٹریم منصوبے کے ذریعے ایک اہم مرحلے کو طے کر رہا ہے۔ ٹرکش اسٹریم، ٹرانس اناطولیہ نیچرل گیس پائپ لائن اور ٹرانس ۔اڈریاٹیک پائپ لائن منصوبوں کی بدولت ترکی، توانائی کی متعلقہ علاقوں کو تقسیم  کے معاملے میں ایک ذریعہ کردار  کو سنبھالے گا۔ اس طرح عالمی توانائی کے نقشے میں یہ  ایک سٹریٹیجک درجے سے ہمکنار ہو گا۔ ہم توانائی کے عالمی سیاست  اور عالمی معیشت میں کس قدر اہم ہونے سے آگاہ ہیں۔ ترکی کے  مرکز ِ توانائی  بننے کی راہ میں  اٹھائے گئے یہ اقدامات  اسے ایک علاقائی اداکار سے  عالمی اداکار کا درجہ حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

عالمی اداکار بننے کے ہدف  کے حامل ترکی  کی مرکزِ توانائی بننے کی کوششوں  پر محض اقتصادی فوائد کے پیش نظر  کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تبصرہ کرنا  ایک منطقی بات نہیں ہو گا۔ یہ صورتحال بیک وقت سیاسی  طور پر بھی ترکی  کی پوزیشن کو مضبوطی دلانے کا مفہوم رکھتی ہے۔ البتہ  یہ تمام عوامل  نا  کافی ہیں۔ خطے میں جغرافیائی محل و قوع و استعداد  کے لحاظ سے توانائی کے تجارتی مرکز بن سکنے   میں ترکی نمایاں ہے۔  تاہم ترکی کو انرجی ویژن  کےحامل انرجی ہب  بننے کے ہدف  کے لیے اولین طور پر اپنی مانگ سے کہیں زیادہ قدرتی گیس کی ترسیل اور ذرائع  میں  متبادل لانے کی  ضرورت در پیش ہے۔

 ترکی اسوقت روسی گیس کو بلیو اسٹریم اور ٹرانس بلقان پائپ لائن کے راستے حاصل کرتا ہے۔ ٹرکش اسٹریم کی بدولت ترکی ذرائع نہیں بلکہ گزرگاہوں میں متبادل کے مواقع فراہم کرے گا۔ ترکی  کو مستقبل میں انرجی لائنوں کے ٹرانزٹ ملک کے معاملے میں کہیں زیادہ فعال پالیسیوں کو اپنانا ہو گا۔ اس اعتبار سے  اسے محض کسی ایک پل کی حیثیت پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ نتیجتاً ٹرکش اسٹریم ترکی  کے قومی توانائی کی حکمت ِ عملی کو تقویت دلانے کی راہ میں اہم ترین اقدامات میں سے ایک ثابت ہو گا۔



متعللقہ خبریں