عالمی نقطہ نظر 52

کیا کرد دھوکے میں رہے ؟

عالمی نقطہ نظر 52

عالمی نقطہ نظر 52

 

Küresel Perspektif  / 52

               Kürtler İhanete mi Uğradı

 

 

Prof. Dr. Kudret BÜLBÜL

 

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ  نے ایک بار پھر شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا اعلان کر دیا   جس کے بعد امریکی فوجی بخیرت اپنے وطن لوٹ گئے۔

امریکہ نے یہ  فیصلہ کیوں کیا ؟ اور یہ بھی  قابل بحث ہے کہ  اس کے انخلا کے بعد شام  اور خطے کی صورت حال کیا رک اختیار کرے گی ۔اسرائیل کا رول علاقے میں کیا ہوگا اور کیا فرانس امریکہ   کا یہ خلا٫ پر کرنے کےلیے  شام میں کود پڑے گا حتی روس ، ایران  اور سعودی  عرب   کی پالیسیاں اب کس رخ مڑیں  گی  ان عوامل پرغور ہونا جاری رہےگا مگر بالخصوص مغربی میڈیا   کی طرف سے  علاقائی  کردوں کے مستقبل کے بارے میں سوال  اٹھایا جا رہا ہے۔

 امریکہ اس دنیا کا چوکی دار   ہے یہ الفاظ نامناسب  ضرور لگتے ہیں مگر کیا کیجیئے؟ دنیا  کی تمام بڑی طاقتیں اس وقت انصاف کی متلاشی نظر آتی ہیں۔ حقوق انسانی کی خلاف ورزیاں، اجتماعی قتل و غارت گری ، نسلی تعصب آج کی دنیا میں اندرونی معاملات نہیں رہے  جن کی آڑ میں عالمی طاقتیں   دیگر ممالک    پر جارحیت   کا  ارتکاب کرتی رہتی ہیں۔

 مغربی ذرائع ابلاغ  کو غالباً قائل کیا گیا ہے  کہ پی کےکے  اور پی وائی ڈی کردوں کی نمائندہ جماعتیں ہیں  مگر اس سلسلے میں کرد قائل نہیں  ہوئے  کیونکہ  انہیں علم ہے کہ یہ دونوں  تنظیمیں سالہا سال سے کرد تشخص   کو ملی میٹ کرنے میں مصروف ہیں ۔یہ وہ تنظیمیں ہیں جن کے ہاتھ  ہزاروں معصوم بچوں،خواتین ،پولیس اہلکاروں،فوجیوں اور  ترک نوجوانوں   کے خون سے رنگے ہوئے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے  انہی تنظیموں کے ہاتھوں  40 ہزار سے زائد کرد باشندے بھی قتل ہو چکے ہیں جنہوں نے ان کےاصولوں سے بغاوت  کی تھی۔

  پی کے کے کی شام میں  ذیلی شاخ  پی وائی ڈی       کا  بھی شیوہ یہی رہا ہے  جس کے ظلم و ستم کا نشانہ  شام  کی عرب اور کرد آبادی بنی ۔اس تنظیم سے بچنے والوں  نے  ترکی  میں پناہ لی    مگر مغربی میڈیا   نے اس بارے میں  اپنی آواز بند رکھی  مگر  حققیت پسند کرد   درست حالات سے واقف ہیں۔

  یاد رہے کہ چند ہزار شامی مہاجرین کے مغرب پہنچنے  پر   وہاں کے  آقاوں نے  واویلقا مچانا شروع کر دیا کہ  ہمارے جمہوری اداروں   میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئیں اور نیو نازی  ازم  اور نیو فاشزم   کا خطرہ بڑھنے لگا  ہے  مگر  ترکی جس نے  40 لاکھ شامی مہاجرین کو آسرا  دیا  وہاں اس قسم   کی کوئی آواز بلند نہ ہوئی  ان 40 لاکھ مہاجرین میں ہر  رنگ و نسل و مذہب کے لوگ شامل ہیں۔

 واضح رہے کہ خواہ جو بھی ہو مغربی خفیہ ایجنسیاں    اور نیوز چینلز اس بات پر قائل ہیں کہ  پی وائی ڈی   کرد  برادری کی نمائندہ  تنظیم ہے  مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض ایجنسیاں ان فرضی خبروں  پر یقین کرنے کے  بجائے حقائق  کے ساتھ ہیں۔

جیسے، داعش عربوں کی  اور  ہٹلر جرمنوں   کی نمائندگی  نہیں کرتا اسی طرح  پی وائی ڈی   بھی کردوں  کی نمائندگی نہیں کرتی ۔ یاد رہے کہ کوئی  بھی غیور قوم خود کو دہشتگرد تنظیموں سےمنسلک نہیں کرتی ۔

نتیجتاً     خطے میں  دہشتگرد تنظیموں     کا سر کچلنے کا سب سے زیادہ فائدہ    ان  بےچارے کردوں  کو پہنچے گا۔

 یہ جائزہ آپ کی خدمت میں انقرہ کی یلدرم با یزید یونیورسٹی کے شعبہ سیاسی علوم کے  پروفیسر ڈاکٹر قدرت بلبل کے قلم سے پیش کیا گیا ۔

 

 

 

 

 



متعللقہ خبریں