تجزیہ 01

ترکی اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں تازہ پیش رفت

تجزیہ 01

گزشتہ دو ہفتوں میں سر گھما کر رکھ دینے والے واقعات اور پیش رفت سال  2019 کے   دونوں  کے باہمی تعلقات  کے حوالے سے سنجیدہ سطح کے مواقع اور خطرات  پر مبنی  ہونے کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔  اس  ضمن میں ایس۔ 400 اور ایف۔35 کے معاملات  اور   شام میں  پیدا ہونے والی نئی صورتحال  دونوں مملکتوں کے مابین خبر رسانی اور روابط  کے مستقبل  کا قابل ذکر سطح  پر تعین کرے گا۔

ترکی۔ امریکہ تعلقات حالیہ چند برسوں  میں  تواتر سے اتار چڑھاؤ کے  شکار رہے ہیں۔ گزشتہ 4 برسوں میں خاص طور پر وائے پی جی   اور دیگر بحرانوں سے  دو چار ہونے والے باہمی  تعلقات حالیہ دو ہفتوں میں  رونما ہونے والی پیش رفت کے بعد ایک نئے  دور میں داخل ہو ئے ہیں۔  اولین طور پر ایس۔ 400 بحران کے سال 2019    میں ترک۔ امریکی تعلقات کے بنیادی  متحرک  پن کو تشکیل دینے   پر  بات چیت ہونے والے اس مرحلے پر امریکی  انتظامیہ  نے اعلان  کیا ہے کہ کچھ مدت سے بات چیت ہونے والے  پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام  کی فروخت  ممکن بن سکتی ہے۔  یہ صورتحال فطری طور  پر  اپنے  اندر کئی سوالات  اور  پہیلیوں  کو بھی سمائے ہوئے ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ  اس بیان کے  بعد   دونوں طرفین کے مابین فنی اور مالی معاملات  پر سودا بازی کا عمل شروع ہو گا۔  دوسری جانب   فروخت کے اس فیصلے  کے پیچھے  ترکی کی ایس۔400 نظام کی خرید   کا معاملہ کار فرما ہونے یا نہ ہونے کا  فی الحال کسی کو علم نہیں۔  کیونکہ اگر امریکہ نے پیٹریاٹ میزائل نظام کی فروخت کے معاملے کو ایس۔ 400  کی عدم خرید سے منسلک کیا تو  پھر ان دونوں مملکتوں   کسی نئی کشیدگی کا جنم لینا نا گزیر بن جائیگا۔ مزید برآں  حالیہ ایام میں ادائیگی کے ساتھ خریدے گئے ایف۔ 35  کی ترکی کو حوالگی کو ایس۔ 400 فضائی  دفاعی نظام  کے معاملے سے منسلک کرنے کی ضرورت پر مبنی  دباؤ نتیجہ خیز ثابت ہوا  اور امریکی انتظامیہ نے  اس حوالے سے فیصلہ سنایا تو  یہ کشیدگی  مزید طول پکڑ جائیگی۔

ایس ۔400 نظام کی خرید کے حوالے سے  ایک دوسرا ممکنہ مسئلہ امریکہ  میں CAATSA نام سے یاد  کیے جانے والے اور روس کے ساتھ دفاعی صنعتی تعاون میں شامل شعبہ جات میں تعلقات قائم کرنے والے ممالک  پر پابندیوں کے نفاذ  پر عمل درآمد کے نتیجے میں ظہور پذیر ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں دونوں ملکوں کے مابین خاصکر دفاعی صنعتی  میدان میں ایک کٹھن دو ر  جنم لے گا۔  ترکی  کے ایس ۔ 400 کے معاملے میں  ابتک  جاری کردہ بیانات کے باوجود  امریکہ  میں  اس معاملے میں منظر عام پر آنے والی توقعات امریکی انتظامیہ کی جانب سے ترکی کے قومی سلامتی کے  خدشات کو ٹھیک طور  پر نہ سمجھ سکنے کا مظاہرہ کررہا ہے۔

پیٹریاٹ فیصلے کے بعد  امریکی انتظامیہ نے ایک دوسرا فیصلہ صادر کرتے ہوئے شام سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کے  فیصلے کو رائے عامہ کے سامنے آشکار کیا۔  چاہے یہ صورتحال  کس قدر بھی پہلے سے ہی ایجنڈے میں شامل تھی لیکن اس فیصلے کے وقت اور طرزِ بیان نے امریکہ میں  اہم سطح پر تہلکہ مچا دیا۔ اولین  طور پر وزیر ِ دفاع ماتیس  اور بعد میں داعش مخالف جنگ  کے ذمہ دار نمائندے میک گرک   اپنے اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے۔ صدر  ڈونلڈ ٹرمپ  کے  اس فیصلے کے بعد  ترکی اور امریکہ کے باہمی تعلقات کے مستقبل کے  لیے اہم مواقع ظہور پذیر ہوئے۔ داعش مخالف جنگ میں تقویت پانے والا تعاون  امریکہ کے خطے سے انخلاء کے وقت ترکی کے ساتھ قائم کیا جانے والا رابطہ قلیل مدت میں دونوں ملکوں کے بیچ  اہم سطح کے تعاون  کے جنم پانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہےدونوں سربراہان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد ٹرمپ کے ٹویٹر پیغامات میں جگہ پانے واالا لاجسٹک تعاون اور کوآرڈینیشن  اس مرحلے پر شام میں استحکام اور بعد میں سیاسی سلسلہ حل میں  اہم سطح کے تعاون کو بھی فروغ  دے سکتا ہے۔ تا ہم اس فیصلے پر عمل درآمد کے مرحلے پر ترکی کے ساتھ مطلوبہ سطح پر روابط قائم نہ کرنا   اور دو طرفہ توقعات کے معاملے میں پیدا ہو نے والے نظریاتی اختلافات  سنگین سطح کا تناؤ بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ علاقے میں فعال طریقے سے فوجی اعتبار سے جگہ پانےو الی مملکتوں  کے علاوہ علاقائی استحکام و تحفظ کے لیے عظیم سطح کے خطرات  کا موجب بننے والی دہشت گرد تنظیموں کی علاقے میں موجودگی بھی سنگین خطرات  کو اپنے اندر پوشیدہ کیے ہوئے ہے۔ خاصکر وائے پی جی   میں امریکہ اور ترکی کے باہمی تعاون سے پیدا ہونے والی بے چینی اور اس کی گندی چالیں خطے میں سنگین نتائج کا موجب بن سکتی ہیں۔ ان خطرات کے پیش ِ نظر امریکہ اور ترکی  کے مابین  واضح تعاون ، آپریشنز میں ہم آہنگی اور دونوں دارالحکومتوں کے درمیان صحت مندانہ و مؤثر خبر رسانی  کے چینلز کا قیام خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔



متعللقہ خبریں