صدر ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف مخلف اسلامی ممالک کے رہنماوں کا شدید احتجاج

اسلامی ممالک کے رہنماوں  نے کہا ہے  صدر ٹرمپ  کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے  مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال مزید سنگین ہوجائے گی

صدر ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف  مخلف اسلامی ممالک کے رہنماوں کا شدید احتجاج

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس  کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانے کی وہاں منتقلی کے خلاف مسلمان ممالک کے رہنماؤں نے شدید احتجاج  کیاہے

اسلامی ممالک کے رہنماوں  نے کہا ہے  صدر ٹرمپ  کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے  مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال مزید سنگین ہوجائے گی۔

امریکی فیصلے پر مسلم ملکوں کا مشترکہ موقف تیار کرنے کے لیے ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے اسلامی ممالک کی تنظیم 'او آئی سی' کا سربراہ اجلاس 13 دسمبر کو استنبول میں طلب کرلیا ہے۔

"او آئی سی" کی سربراہی اس وقت ترکی کےپاس ہے اور صدر ایردوان نے یہ اجلاس تنظیم کے صدر کی حیثیت سے طلب کیا ہے۔

سربراہی اجلاس سے ایک روز قبل مسلمان ملکوں کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بھی ہوگا۔

ترکی نے "او آئی سی"کا سربراہی اجلاس بلانے کا اعلان اردن کے شاہ عبداللہ کے دورۂ انقرہ کے دوران کیا۔

صدر ایردوان نے  مختلف اسلامی ممالک کے رہنماوں کو ٹیلی فون کرتے ہوئے  صدر ٹرمپ کے فیصلے کے بعد کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

انہوں نے پاکستان کے صدر ممنون حسین سے بھی اس موضوع سے متعلق ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔

ترک حکام کے مطابق دونوں رہنماؤں نے امریکی فیصلے کے خلاف مشترکہ موقف اپنانے اور مسلم دنیا کو متحرک کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بدھ کو صدر ٹرمپ کی جانب سے یروشلم سے متعلق فیصلے کے اعلان کے فوراً بعد فلسطین کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑےجبکہ استنبول اور کراچی میں بھی  صدر ٹرمپ کے خلاف مظاہرے کیے گئے ہیں۔

مظاہرین نے امریکہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور امریکی پرچم نذرِ آتش کیے۔ امکان ہے کہ مظاہروں کا دائرہ جمعرات کو دیگر مسلم ممالک تک بھی پھیل جائے گا۔



متعللقہ خبریں