یونان کی مسلم اقلیت کےلیے خود کو"ترک" کہلوانا ایک سزا بن گیا ہے:صدر ایردوان

صدر رجب طیب ایردوان نے یونان کے دورے کے دوران کہا ہے کہ مغربی تھریس کی مسلم اقلیت کو ترک کہنے کی بھی سزا دی جاتی ہے اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک معمول کی بات ہے

یونان کی مسلم اقلیت کےلیے خود کو"ترک" کہلوانا ایک سزا بن گیا ہے:صدر ایردوان

 صدر رجب طیب ایردوان   نے یونان کے دورے کے دوران   اعتراف کیا کہ   سن 1923 میں طے ہونے والے لوزان معاہدے کے بعض نکات پر  تاحال  اختلافات موجود ہیں۔

 صدر ایردوان نے یہ بات  اپنے یونانی ہم منصب  پروکوپس پاولو پولو  کے ساتھ منعقدہ  ایک مشترکہ بیان کے دوران کہی ۔

انہوں نے کہا کہ لوزان معاہدے کے بعد نکات پر اختلافات موجود ہیں جس کی  مثال  مغربی تھریس کے ترک نژاد  مسلمانوں کو  مفتی اعظم    کے انتخاب میں دشواری کی صورت میں سامنے ہے ۔

انہوں نے کہا کہ  یونان کی فی کس قومی آمدنی  کا تناسب  تقریباً 18 ہزار ڈالرز جبکہ مغربی تھریس     کی مسلم آبادی کی آمدنی    کا تناسب محض  2200 امریکی ڈالرز ہے  جو کہ    امتیازی سلوک   ہے ۔

صدر ایردوان نے کہا کہ  ترکی میں  یونانی شہریوں کو ہر طرح کی مذہبی آزادی حاصل ہے مگر مغربی تھریس کی مسلم اقلیت کو ترک کہنے کی بھی سزا دی جاتی ہے ۔

 



متعللقہ خبریں