پی کے کے/ پی وائی ڈی اور داعش تعلقات

دہشت گرد تنظییں  پی کے کے / پی وائی ڈی  اور داعش  کے درمیان  ہونے والی   جھڑپوں  کے باوجود ان تنظیموں کے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات بھی موجود ہونے  کا مشاہدہ ہونے کے ساتھ ساتھ   ان تعلقات  سے متعلق کئی ایک پہلو ابھر  کر سامنے  آئے ہیں

پی کے کے/ پی وائی ڈی اور داعش تعلقات

دہشت گرد تنظییں  پی کے کے / پی وائی ڈی  اور داعش  کے درمیان  ہونے والی   جھڑپوں  کے باوجود ان تنظیموں کے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات بھی موجود ہونے  کا مشاہدہ ہونے کے ساتھ ساتھ   ان تعلقات  سے متعلق کئی ایک پہلو ابھر  کر سامنے  آئے ہیں۔  

پی کے کے /پی وائی ڈی - وائی  پی جی  اور  داعش  دہشت گرد تنظیموں  کے درمیان  قائم تعلقات کی سب سے   ٹھوس مثال پی کے کے /پی وائی ڈی - وائی  پی جی   کے راقہ شہر  پر قبضے  کے موقع پر  دہشت گرد تنظیم داعش  کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے کی رو سے  داعش کے  دہشت گردوں کو بسوں کے ذریعے  شہر سے باہر   لے جانے سے متعلق  فلم کا موجود ہونا ہے۔ داعش دہشت گرد تنظیم  15 جس نے   جنوری   2014  کو  راقہ پر قبضہ کرلیا تھا  کو   پی کے کے /پی وائی ڈی - وائی  پی جی    نے امریکی اتحاد کے ساتھ مل کر  17 اکتوبر 2017 کو واگزار کروالیا ۔ راقہ پر امریکی اتحاد کے قبضے  کے دوران پی کے کے /پی وائی ڈی - وائی  پی جی  اور  داعش   کے درمیان طے پانے والے   سمجھوتے کی رو سے   راقہ میں موجود   داعش کے دہشت گردوں  کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو دی جانے والی اطلاعات  کے بعد بسوں کے ذریعے  راقہ سے    بڑے محفوظ طریقے سے نکالتے ہوئے   السوار  اور   دارالزور  کے علاقوں میں بسادیا گیا۔  متعلقہ سمجھوتے   کے بارے میں بی بی سی  کے رپورٹر   کیونٹین سومرویل  اور ریام  دلت  نے  یہ رپورٹ نشتر کی تھی۔ 

راقا میں پی کے کے / پی وائے ڈی / وائے پی جی اور داعش کے درمیان ہونے والے معاہدے کو امریکہ اور عالمی اتحاد نے بھی قبول کر لیا  تھا ۔ پینٹاگون کے ترجمان ایریک پاہون نے  یہ دعویٰ کیا  ہے کہ   اس معاہدے کا  اصل مقصد شہریوں کو تحفظ دینا ہے  ۔ بعض اوقات حصہ داروں کیساتھ مکمل مطابقت موجود نہ  بھی ہو تو ہم ان کے اپنے مسائل  کے حل کی تلاش کا احترام کرتے ہیں ۔  دریں اثناء عالمی اتحاد کے ترجمان کرنل رائن ڈیلون نے بھی ٹویٹر  سے یہ پیغام  تھا کہ یہ معاہدہ کوئی راز نہیں ہے ۔

15 نومبر 2017  کو اپنے آپ کو ترکی کے حوالے کرنے والے اور برٹش ٹائمز اخبار کو انٹرویو دینے والے ایس ڈ ی جی کے ترجمان طلال سلو نے کہا کہ ایس ڈ ی جی نے  راقا سے پہلے منبیچ میں بھی ایسا ہی معاہدہ طے کیا تھا ۔  پی وائے ڈی / وائے پی جی نے منبیچ کو ترک کر نے والے داعش کے اراکین کو اپنے زیر کنٹرول علاقوں سے آزادی کیساتھ گزرنے کے لیے 200 ڈالر   کی آدائیگی کیساتھ سیاحتی دستاویز فروخت کی تھی ۔ ایس ڈ ی جی کی کمان کرنے والے شاہین جیلو نے  امریکہ کیساتھ معاہدہ کیا تھا اور منبیچ کو آزاد کروانے کے  اعلان کے  پہلے داعش کے 2000 اراکین کو  شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے شہر سے نکلنے کی اجازت دینے کا عمل امریکہ اور ایس ڈ ی جی کے درمیان ہونے والے پہلے معاہدے کی دلیل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ طلال سلو نے کہا کہ دوسرا معاہدہ دریائے فرات کے  کنارے واقع طبقہ میں  طے پایا تھا ۔  شاہین چلو نے پی وائے ڈی / وائے پی جی اور ایس ڈی جی  کے نام پر امریکی حکام کیساتھ ملاقات کرنے کے بعد داعش کے اراکین کو سلامتی کیساتھ  واپس جانے کی اجازت دی تھی ۔ اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پی وائے ڈی / وائے پی جی  اور داعش  کے درمیان   بالمقابل  مفادات  پر مبنی روابط موجود تھے ۔

"طلال سیلو نے اناطولیہ ایجنسی کو انٹرویو میں PKK  کے دیرز زور  اور خاصیکی  کے پیٹرول کو  کس   طریقے سے  فروخت کرنے  کے حوالے سے ایک سوال کا  جواب کچھ یوں دیا ہے:"وائے پی جی  اور PKK   نے سن 2012 میں رومیلان کے تیل کے کنوؤں پر قبضہ کرتے ہوئے  اس کے امور  کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ یہ  لوگ پہلے پہل  داعش کے زیرِ کنٹرول علاقوں سے تیل برآمد کرتے تھے۔ PKK کے  جیزرے  کے مالی امور کا ذمہ دار علی شیر  قامشلی میں مقیم ہے جس کا پی کے کے سرغنوں کے ساتھ براہ راست رابطہ ہے۔  تیل فروخت کرنے کے معاہدے کرنے والا  با اختیار شخص  اس سے حاصل کردہ  آمدن کو صیغہ راز رکھتا ہے۔  کیونکہ   یہ   PKK کا بھی  راز ہے۔  علی شیر  سن 2012 سے ابتک  دوسرے ملکوں میں  تیل فروخت کر رہا ہے۔ ماضی میں فروخت محض  داعش کے  علاقوں کے راستے  ہی ہوا کرتی تھی۔  ملکی انتظامیہ  کی فوج  کا  نان   کمیشنڈ  فوجی افسر  الا قاطر جی   ، PKK  سے  تیل خریدنے  کے امور کا ذمہ دار ہے۔   حتی  انہوں نے شاہین جیلو   تک کے اس چیز میں مداخلت نہ  کر سکنے کا  کہا تھا۔  تیل کا معاملہ  تنظیم کا  ایک اہم راز تھا۔ میں  پوچھتے  پوچھتے  بعض معلومات  تک پہنچا۔ فروخت کردہ  تیل کی آمدنی  کی رقوم کو  لبنانی بینکوں میں  ان کے قریبی  اشخاص کے کھاتوں  میں جمع کیا جاتا تھا۔  بعد میں ان رقوم کو یورپ پہنچایا جایا جاتا تھا۔  اس کام میں ملوث تمام تر افراد کا تعلق PKK سے تھا۔  روزانہ  سینکڑوں کی تعداد میں ٹینکروں کے ذریعے  تیل کی  ترسیل  کی جاتی تھی۔ "1

PKK/پی وائے ڈی۔ وائے پی جی   بعد میں  دیرز زور  کی جانب قبضہ جمانے کی کوششوں کے آغاز کے ساتھ  داعش  دہشت گرد تنظیم کا   کئی ایک سٹریٹیجک علاقوں کو   بلا لڑائی کے  PKK، وائے پی ڈی۔وائے پی جی  کے حوالے کرنا   ایک لمحہ فکریہ  ہے۔

PKK، وائے پی ڈی۔وائے پی جی    کے دیر ز زور  شہر کے مشرق پر   حملوں کے دوران  داعش کے ساتھ دوبارہ ایک معاہدہ طے پایا  ہے۔ قاسیوں خبر ایجنسی  کی جانب سے    متن کو شائع کیا جانے والا معاہدہ  ، وائے پی ڈی۔وائے پی جی  ، PKK اور داعش کے درمیان فائر بندی    کے قیام   پر مبنی ہے۔

فائر بندی     پر عمل درآمد ہوتے ہی پی کے کے     اور اس کی ذیلی دہشتگرد تنظیموں   نے  داعش کے علاقوں پر حملے بند کر دیئے جس کے بعد داعش  نے علاقہ خالی کرتے ہوئے  شامی شہر  دیر الزور کے مشرق میں  اپنا ڈیرہ ڈال دیا ۔

 شام میں پی کےکے اور اس کی ہمنوا  تنظیموں   کے  علاوہ  داعش اور ترکی کے درمیان  دشمنی  کی آڑ میں    سودے بازی کا دور عروج پر ہے۔

 دور حاضر میں پی کےکے  نے   "دیر الزور" اور "راقہ" میں   قائم    فرضی  جیلوں  سے  داعش کے جنگجووں  کو  صرف اس شرط پر  رہائی  دے رکھی ہے کہ وہ   ترکی کے خلاف اپن مذموم  عزائم    میں ہاتھ بٹائیں اور ترک فوج کے خلاف  مختلف حیلوں  بہانوں سے سازشیں کریں  علاوہ ازیں، پی کےکے اور اس جیسی تنظیموں   کے کارندوں   کی طرف سے ترکی کے خلاف عالمی سطح پر  پروپیگینڈا کرنا   بھی شامل ہے۔

 ان دہشت گرد تنظیموں   نے  "شاخ زیتون  آپریشن"  کے باعث  ترک فوج  اور   شامی حُر فوج  پر حملے کرنے کےلیے   اپنی فرضی جیلوں سے داعش کے کارندوں کو چھوڑنا شروع کر دیا ہے  جو کہ اب  آہستہ آہستہ عفرین  کی جانب  جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

یہاں  یہ  بات واضح ہے کہ  داعش کے یہ جنگجو بم بنانے میں مہارت رکھتے ہیں جنہیں    پی کےکے اور اس کی ہمنوا لہ   اور ہم پیالہ  تنظیمیں      اپنی وفا داری  کی شرط پر دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کرنے     کا پورا ارادہ رکھتی ہیں۔

 

دہشت گرد تنظیم PKK/PYD-YPG کے داعش کے دہشت گردوں سے استفادہ کرنے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات ، مذکورہ دہشت گرد تنظیموں کے درمیان اراکین کے تبادلے  کی عکاسی کے حوالے سے اہمیت کے حامل ہیں۔ علاوہ ازیں یہ صورتحال داعش کے خلاف جدوجہد کے پردے میں امریکہ اور یورپی حکومتوں کے ساتھ ساتھ متعدد حکومتوں سے مدد حاصل کرنے والی دہشت گرد تنظیم PKK/PYD-YPG کی دو رُخی کی بھی عکاسی کرتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ مفادات  کی خاطر  ایک ممکنہ خطرے  کے ساتھ بھی اتحاد کیا جا سکتا ہے۔

PKK/PYD-YPG اپنے زیر کنٹرول علاقوں  میں نسلی صفائی کرنے اور علاقے کی آبادیاتی سخت کو تبدیل کرنے کے لئے خاص طور پر عربوں اور ترکمینوں کو  ہجرت پر مجبور کر رہی ہے۔ PKK/PYD-YPG دہشت گرد تنظیم داعش کے دہشت گردوں کو اپنی نام نہاد  جیلوں میں  نہیں رکھنا چاہتی اور انہیں بھی مہاجرین میں شامل کر کے ترکی بھیج رہی ہے۔ علاوہ ازیں دہشت گرد تنظیم اپنے اندر شامل  داعش کے اراکین پر مشتمل گروپوں  کو ترکی۔شام سرحد کے غیر قانونی  راستوں یعنی سرنگوں کے ذریعے ترکی بھیج رہی ہے۔

دوسری طرف امریکی جریدے "نیشن" کے 9 فروری 2017 کے شمارے  میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق PKK/PYD-YPG نے شام کے شمال میں  جنگی جرائم کا ارتکاب کیا اور ہزاروں انسانوں کو گھر سے بے گھر  کر دیا۔ جریدے میں YPG  سے متعلق اس رپورٹ کا جو نوٹ سب سے زیادہ مرکز توجہ بن رہا ہے وہ یہ کہ YPGعلاقے میں داعش کے ساتھ جھڑپیں نہیں کر رہی بلکہ اس کے برعکس جھڑپیں کرنے والے گروپوں کے راستے میں رکاوٹیں بننے والی حکمت عملی پر کاربند ہے ۔یہاں یہ کہنا ممکن ہے کہ رپورٹ میں حکمت عملی کے الفاظ کے ساتھ YPD/YPG کے داعش کے ساتھ  اتحاد پر زور  دیا گیا ہے۔

 

 

 



متعللقہ خبریں