ترکی: یونان کے ساتھ کشیدگی دونوں فریقین کے مفادات کے منافی ہے

بحیرہ ایجئین میں  تناو دونوں ممالک کے مفادات کے منافی ہے لہٰذا یونانی فریق کا ان خطرناک حرکات سے باز رہنا ضروری ہے: حامی آق سوئے

ترکی: یونان کے ساتھ کشیدگی دونوں فریقین کے مفادات کے منافی ہے

ترکی نے کہا ہے کہ بحیرہ ایجئین میں یونان کے ساتھ کشیدگی دونوں فریقین کے مفادات کے منافی ہے۔

ترکی کی وزارت خارجہ کے ترجمان حامی آق سوئے نے کارداک کے اطراف میں پیش آنے والی کشیدگی کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ہماری وزارت خارجہ کے مشیر نے یونان کی وزارت خارجہ کے جنرل سیکرٹری کے ساتھ  ٹیلی فون پر ملاقات کی اور واضح شکل میں  کہا ہے کہ بحیرہ ایجئین میں  تناو دونوں ممالک کے مفادات کے منافی ہے لہٰذا یونانی فریق کا ان خطرناک حرکات سے باز رہنا ضروری ہے۔

آق سوئے نے یونان کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان  سے متعلق  پوچھے گئے ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا ہے کہ " یونان کی وزارت خارجہ کی  طرف سے 13 فروری کو   جاری کئے گئے بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ  کارداک کے چٹانی علاقے میں پیش آنے والے خطرناک حادثے کے بارے میں یونان کی وزارت خارجہ  کے سیکرٹری جنرل نے ترکی کی وزارت خارجہ کے مشیر  سے بھرپور شکل میں احتجاج کیا ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یونانی فریق اس جھوٹے بیان سے ایک طرف اپنی رائے عامہ  کو فریب دے رہا ہے تو  دوسری طرف  ہمیشہ کی طرح حقائق کو مسخ کر رہا ہے"۔

آق سوئے نے کہا کہ "حقیقت یہ ہے کہ ہماری وزارت خارجہ کے مشیر نے ترکی کے چٹانی علاقے کارداک میں کل رات یونانی کوسٹل سکیورٹی کشتیوں کی خطرناک حرکات کے بارے میں یونان کی وزارت خارجہ کے سیکرٹری جنرل سے ٹیلی فونک ملاقات کی"۔

ملاقات میں مشیر نے کہا ہے کہ یونانی مسلح فورسز  کی طرف سے فضاء اور سمندر میں مخاصمانہ کاروائیاں جاری ہیں اور ہم ان کے بارے میں درگزر سے کام نہیں لیں گے۔ بحیرہ ایجئین میں کشیدگی میں اضافہ دونوں ممالک کے مفادات کے منافی ہے  لہٰذا یونانی فریق کو ان خطرناک حرکات کو فوری طورپر بند کرنا چاہیے"۔



متعللقہ خبریں