جو جدوجہد ہم نے ماضی میں چناق قلعے میں کی وہی آج ملکی حدود کے اندر اور بار کر رہے ہیں: ایردوان

اس وقت عفرین میں ترک پرچم  اور آزاد شامی فوج کا پرچم لہرا رہا ہے، اس موقع پر میں اپنے جرّی ترک فوجیوں کو اور آزاد شامی فوج کے اراکین کو اپنی طرف سے اور اپنی ملت کی طرف سے  جذبہ تشکّر پیش کرتا ہوں: صدر رجب طیب ایردوان

جو جدوجہد ہم نے ماضی میں چناق قلعے میں کی وہی آج ملکی حدود کے اندر اور بار کر رہے ہیں: ایردوان

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ  عفرین کے شہری مرکز کو آج صبح ترک مسلح افواج اور آزاد شامی فوج  کی طرف سے  مکمل کنٹرول میں لے لیا گیا ہے۔

صدر ایردوان نے چناق قلعے میں 18 مارچ یومِ شہدائے چناق قلعے اور فتح چناق قلعے کی 103 ویں سالانہ تقریبات سے خطاب کیا اور خطاب میں کہا کہ آج صبح 5 بجکر 30 منٹ پر عفرین کے شہری مرکز کو مکمل طور پر کنٹرول میں لے لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عفرین میں اب علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم اور اس کی کٹھ پتلیوں کی نہیں امن اور سلامتی کی علامتیں لہرا رہی ہیں۔

صدر ایردوان نے کہا کہ اس وقت وہاں ترک پرچم  اور آزاد شامی فوج کا پرچم لہرا رہا ہے۔ اس موقع پر میں اپنے جرّی ترک فوجیوں کو اور آزاد شامی فوج کے اراکین کو اپنی طرف سے اور اپنی ملت کی طرف سے  جذبہ تشکّر پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے بعد علاقے کے انفراسٹرکچر  کی اور عمارتی تعمیر و مرمت کے بعد علاقے کو قابل رہائش حالت میں لانے کے لئے تمام اقدامات کئے جائیں گے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ اس وقت ترکی میں یا پھر دیگر مقامات پر مقیم شامیوں کو جلد از جلد ان کے وطن اور ان کے گھروں سے ملانے کے لئے ہم تمام ضروری اقدامات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ترک ملت کی حیثیت سے ماضی میں چناق قلعے میں جس جوش اور عزم کے ساتھ جدوجہد کی گئی تھی آج ملکی حدود کے اندر اور باہر بھی اسی جوش اور عزم کے ساتھ ایک جدوجہد جاری ہے۔

دہشت گردی کوریڈور کی زنجیر کے چار مقامات سے ٹوٹنے کا ذکر کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ہم اس زنجیر کے باقی حلقوں کو بھی جلد از جلد ایک ایک کر کے توڑ ڈالیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جو کچھ چناق قلعے میں ہوا تھا اس وقت ہماری سرحدوں پر بھی وہی کچھ ہو رہا ہے۔ ہم نے 58 روزہ آپریشن میں عفرین کو مکمل طور پر کنٹرول میں لے لیا ہے۔ اس جدوجہد کا سب سے بڑا وسیلہ الہام فتح چناق قلعے ہے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ ہم نے  جیسے ، جاہ و جلال  والی زرہوں کے ساتھ دنیا کے چاروں گوشوں سے اکٹھے کئے ہوئے فوجیوں کے ساتھ قبل از وقت فتح کا جشن منانے والے کو شکست سے دوچار کیا تھا اسی طرح ترکی کی سرحدوں کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کا کوریڈور بنانے کے خواہش مندوں کو بھی حیرت زدہ کر دیا ہے۔



متعللقہ خبریں