امریکی حکام شاخ زیتون آپریشن کو سمجھنا ہی نہیں چاہتے۔ ترکی

دفترِ خارجہ کے ترجمان حامی آکسوئے  نے امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان ہیتھر نوریٹ  کے  شامی علاقے عفرین کے حوالے اعلانات پر  رد عمل کا مظاہرہ کیا

امریکی حکام شاخ زیتون آپریشن کو سمجھنا ہی نہیں چاہتے۔ ترکی

ترکی   سے امریکہ کے خلاف ردِ عمل کا مظاہرہ۔۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان حامی آکسوئے  نے امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان ہیتھر نوریٹ  کے  شامی علاقے عفرین کے حوالے اعلانات پر  رد عمل کا مظاہرہ کیا ہے۔

آکسوئے نے اس موضوع پر ایک سوال کا تحریری جواب دیا ہے۔

نوریٹ کے بیانات  کے بارے میں  انہوں نے کہا ہے کہ "امریکی حکام  تا حال  شاخِ زیتون آپریشن کے جواز، اغراض و مقاصد  کا ادراک  نہیں کر سکے یا پھر  افسوس کہ یہ اسے  سمجھنا ہی نہیں  چاہتے۔ "  انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن  صرف اور صرف دہشت گردوں کے خلاف  کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ "کاروائی میں  قطعی طور پر عوام کو ہدف نہیں بنایا گیا، بلکہ یہ  اس کے بر عکس شہریوں کو دہشت گرد تنظیموں کے دباؤ اور مظالم سے نجات دلانے کا  ہدف  رکھتی ہے۔ علاوہ ازیں شہریوں کو نقصان  پہنچنے کا سد باب کرنے کی خاطر  تمام تر ممکنہ تدابیر اختیار کی گئیں اور احتیاج مند شہریوں کو انسانی امداد  کی ترسیل کی گئی ہے۔

حامی آکسوئے نے  اپنے اعلانات میں مزید کہا کہ "عفرین میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن  سے داعش کے خلاف جنگ  متاثر ہو گی  جیسے   دعوے بے بنیاد ہیں۔ شام میں انسدادِ دہشت گردی  کی کوششوں کو اصل نقصان پہنچانے والی مؤقف ایک  دہشت گرد گروہ کے خلاف کسی دوسرے دہشت گرد گروہ کو استعمال کرنا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی  دفتر خارجہ کی ترجمان ہیتھر نوریٹ نے ترک  مسلح افواج کی جانب سے بروز اتوارعفرین کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کیے جانے کے بعد اپنے اعلان میں کہا تھا کہ "گزشتہ 48 گھنٹوں کے اندر  رونما ہونے والی پیش رفت  کے حوالے سے ہمیں خدشات لا حق ہیں۔ "

 



متعللقہ خبریں