ہلاکت کا سبب بننے والا اسلحہ خواہ کوئی بھی اس کا استعمال جرم ہے: صدر رجب طیب ایردوان

ہم مسلمانوں کی حیثیت سے آپس کے معاملات کو آپس میں حل نہیں کرتے بلکہ انہیں غیر مسلم حل کرتے ہیں اور غیر مسلموں  پر انحصار کرنے کی صورت میں بیرل بم برسنا شروع ہو جاتے ہیں: صدر رجب طیب ایردوان

ہلاکت کا سبب بننے والا اسلحہ خواہ کوئی بھی اس کا استعمال جرم ہے: صدر رجب طیب ایردوان

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ "خواہ کوئی بھی اسلحہ استعمال کیا جائے نتیجہ موت ہو تو اس اسلحے کا استعمال جرم ہے"۔

استنبول میں "عالمی مسلمان اقلیتوں کے سربراہی اجلاس " سے   خطاب میں صدر رجب طیب ایردوان نے  کہا ہے کہ "ہم مسلمانوں کی حیثیت سے آپس کے معاملات کو آپس میں حل نہیں کرتے بلکہ انہیں غیر مسلم حل کرتے ہیں۔ غیر مسلموں  پر انحصار کرنے کی صورت میں بیرل بم برسنا شروع ہو جاتے ہیں  اور اس کو کبھی کیمیائی اسلحے اور کبھی کنوینشنل اسلحے کا نام دیا جاتا ہے۔

خطاب میں شام کے علاقوں مشرقی الغوطہ اور دُوما  میں استعمال کئے گئے کیمیائی اسلحے  کا ذکر کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ماضی میں کیمیائی اسلحے کے استعمال کی ممانعت کے بارے میں سمجھوتے کرنے والے بین الاقوامی ادارے  اس اسلحے کے استعمال کے خلاف کوئی موقف اختیار نہیں کر پا رہے۔ انسانی ہلاکت کا سبب بننے والا اسلحہ خواہ کچھ بھی ہو اس کا استعمال جرم ہے ۔ اگر کیمیائی اسلحے سے ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں تو روایتی اسلحے سے لاکھوں ہلاک ہو چکے ہیں لیکن کوئی بھی اس حوالے سے کچھ نہیں کہتا۔

قاتل جتھوں کے دہشتگردی کے اقدام  ہمیں نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ اسلام مخالف حلقوں کو بھی  موقع فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جرمنی، ہالینڈ، بیلجئیم اور فرانس میں مسلمانوں کے خلاف حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مسلمان خواتین صرف سر اوڑھنے کی وجہ سے زیادتی کا نشانہ بن رہی ہیں اور اس کی سب سے اہم مثال فرانس ہے۔

دین اسلام کے مساوات کا علم بردار ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئےصدر  رجب طیب ایردوان نے کہا کہ صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے ہمارے بہن بھائیوں کو گھر سے بے گھر کیا جا رہا ہے، ملک بدر کیا جا رہا ہے اور اس کے سب سے بڑی مثال روہینگیا مسلمان ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلمان کی حیثیت سے ہماری کچھ ذمہ داریاں ہیں، ہم ان حملوں کے مقابل خاموش نہیں رہ سکتے۔



متعللقہ خبریں