ایردوان ۔ پوتن ملاقات میں ادلیب میں اسلحہ سے پاک علاقے کے قیام پر اتفاق

پریس کانفرس میں صدر ایردوان نے دورہ روس پر اپنی خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  دو طرفہ تعاون ہر شعبے میں ،  مشترکہ سیاسی ارادے کی بنیاد پر آگے بڑھ رہا ہے۔

ایردوان ۔ پوتن ملاقات میں ادلیب میں اسلحہ سے پاک علاقے کے قیام پر اتفاق

ادلیب کے انسانی  المیہ کا ترکی کی وسیع پیمانے کی کوششوں کی بدولت  سد باب کر لیا گیا ہے۔

صدر رجب طیب ایردوان اور گزشتہ دس دنوں میں دو بار ملاقات  کردہ روسی ہم منسب ولا دیمر پوتن نے شامی علاقے ادلیب میں اسلحہ سے  پاک علاقے کی تشکیل  پر مصالحت قائم کر لی ہے۔

دونوں سربراہان نے بلمشافہ اور بین الاوفود مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرس کا انعقاد کیا۔

پریس  کانفرس میں  میزبان صدر پوتن نے  بتایا کہ صدر ایردوان کے ساتھ تجارت سمیت دو طرفہ تعلقات پر غور و خوض کیا گیا ہے۔

باہمی تجارت میں قومی کرنسی کے استعمال پر زور دینے والے پوتن کا کہنا ہے کہ مشترکہ توانائی منصوبوں  پر کام جاری رہے گا۔

ثقافت و سیاحت عنوانات  کے بھی زیر غور آنے کی وضاحت کرنے والے روسی رہنما نے بتایا کہ ملاقات کا مرکزی ایجنڈہ ادلیب تھا اور اس معاملے میں اہم سطح کی مطابقت قائم ہوئی ہے۔

شام میں روسی فوجی اڈوں پر حملوں کے خطرات پر خدشات رکھنے کا ذکر کرتے ہوئے پوتن نے کہا کہ "مخالف گروہوں کے اپنے بھاری اسلحہ کے ہمراہ، ادلیب میں پندرہ تا بیس کلو میٹر  کے علاقے میں اسلحہ سے پاک علاقے کی تشکیل  کے  ساتھ، علاقے سے  انخلاء کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ "

پریس کانفرس میں صدر ایردوان نے دورہ روس پر اپنی خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  دو طرفہ تعاون ہر شعبے میں ،  مشترکہ سیاسی ارادے کی بنیاد پر آگے بڑھ رہا ہے۔

صدر پوتن کے ساتھ  شام کے معاملے پر تبادلہ خیال کرنے کا ذکر کرنے والے صدر ِ ترکی نے کہا کہ"ادلیب  میں پندرہ اکتوبر سے   اسلحہ سے پاک ، حفاظتی علاقے کی تشکیل کرتے ہوئے مخالفین  اور ملکی انتظامیہ کی فوج  کے بھی  اس وقت موجود ہونے والے  مقامات پر ہی  رہنے کے معاملےپر باہمی اتفاق قائم کیا گیا ہے۔  

ہتھیاروں سے پاک علاقے کی سلامتی  اور تحفظ کے امور کے ترک اور روسی فوجیوں کے باہمی  رابطے کے اندر  سنبھالنے  کی بھی وضاحت کرنے والے جناب ایردوان  کاکہنا تھا کہ اس طرح ادلیب میں وسیع پیمانے کے کسی ممکنہ انسانی المیہ کا سدِ  باب کر لیا گیا ہے۔

شامی آئینی کمیٹی کے امور کے پایہ تکمیل  تک پہنچنے اور بعد ازاں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں شامی  عوام کے اپنی ترجیح کو سامنے لانے کی تمنا کا اظہار کرنے والے صدرِ ترکی نے  اس بات پر زور دیا کہ "دہشت گرد گروہ محض ادلیب میں ہی نہیں بلکہ سب سے بڑا خطرہ دریائے فرات کے مشرق میں سر گرم ِ عمل  علیحدگی پسند تنظیم PKK کی شام میں شاخ  پی وائے ڈی ہے۔"

خیال رہے کہ ایردوان اور پوتن سات ستمبر  کو ایرانی دارالحکومت تہران میں میزبان صدر حسن روحانی  کے ہمراہ ادلیب کے معاملے پر منعقدہ  سہہ فریقی اجلاس   میں یکجا ہوئے تھے۔

 

 

 



متعللقہ خبریں