امریکی سینٹ میں جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد کے ملوث ہونے سے متعلق بل پیش کردیا گیا

پیش کردہ  خاکہ بل میں  کہا گیا ہے کہ  جمال  خاشقجی کے قتل میں ملوث ٹیم  سعودی پرنس کے  زیر کنٹرول تھی جس سے  اس قابل نفرت قتل کے پلان میں سعودی ولی  عہد  کا ہاتھ ہونے کا کا پتہ چلتا ہے

امریکی سینٹ میں جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد کے ملوث ہونے سے متعلق بل پیش کردیا گیا

امریکہ میں سینیٹرزکے ایک گروپ نے سعودی ولی عہد پرنس محمد بن سلمان  کے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار ہونے کے الزام میں ایک  بل سینٹ میں پیش کیا ہے۔

امریکہ کے سینٹرز میں سے  ریپبلکن پارٹی کے سینیٹرLindsey Graham, Marco Rubio اور Todd Young کے علاوہ  ڈیموکریٹ  پارٹی کے سینیٹر  Dianne Feinstein, Ed Markey  اور  Christopher Coonsکی جانب سے پیش کئے جانے والے بل میں سعودی ولی عہد پرنس سلمان کے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ہونے پر ان کا پختہ یقین ہ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔

پیش کردہ  خاکہ بل میں  کہا گیا ہے کہ  جمال  خاشقجی کے قتل میں ملوث ٹیم  سعودی پرنس کے  زیر کنٹرول تھی جس سے  اس قابل نفرت قتل کے پلان میں سعودی ولی  عہد  کا ہاتھ ہونے کا کا پتہ چلتا ہے۔

سینیٹر گراہم کی جانب سے تحریری طور پر جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں رہائش پذیر  جمال خاشقجی کے تینوں بچے بھی امریکی شہریت کے حامل ہیں۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ  کو اس سلسلے میں اپاپنا واضح موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو کہ امریکہ کی  اپنی ہی  قومی سلامتی  کے  مفاد میں ہے۔

اس خاکہ بل پر دستخط کرنے والے سینٹر روبیو نے کہا ہے کہ انہیں پختہ یقین ہے کہ سعودی ولی عہد سلمان،  سعودی صحافی جمال خاشق جی کے قتل میں ملوث ہیں۔

پیش کردہ خاکہ  بل میں  ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ اور بین الاقوامی برادری سے خاشقجی کے قتل کے علاوہ یمن میں انسانی بحران،  قطر کی ناکہ  بندی اور دیگر مخالفین پر ڈالے جانے والے دباؤ اور ظلم و ستم کے پیچھے ولی عہد پرنس  محمد بن سلمان ہی کا ہاتھ ہے۔

خاکہ بل میں  حکومت سعودی عرب سے یمن میں جاری جنگ کو ختم کرنے کے لئے حوثیوں سے مذاکرات   شروع کرنے جبکہ قطر کے ساتھ سیاسی اختلافات کو ختم کرنے کے لئے ڈائیلاگ  کرنے  اور سعودی ڈائریکٹر اور بلاگر رائف  بدوی کو رہا کرنے  کی بھی اپیل کی گئی ہے۔

اس خاکہ  بل کے منظور ہونے کی صورت میں  امریکی سینٹ    میں  خاشقجی کے قتل میں سعودی پرنس محمد بن سلمان کے ملوث ہونے کی سرکاری طور پر تصدیق ہو جائے گی۔

امریکہ کی خفیہ سروس سی آئی اے کی ڈائریکٹر Gina Haspel نے 4 دسمبر بروز منگل خاشقجی کے قتل کے بارے میں بند کمرے میں متعدد سینٹرز کو معلومات فراہم کی تھیں۔

 اس بریفنگ کے بعد پریس کو بیان دیتے ہوئے متعدد سینٹرز نے  جمال خاشقجی کے قتل کے احکامات سعودی ولی عہد پرنس محمد بن سلمان  کے دینے سے متعلق کسی قسم کے شک و  شبہات موجود نہ رہنے سے آگاہ کیا تھا۔

سعودی صحافی جماعت خاشقجی  2 اکتوبر کو اپنی شادی کی دستاویزات حاصل  کرنے کی  غرض سے  استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے ستشریف لے   گئے تھے  جہاں  انہیں  وحشیانہ طریقے سے قتل کردیا گیا تھا۔ 



متعللقہ خبریں