ادلیب میں ترکی اور روس کا تعاون تسلی بخش ہے۔ اقوام متحدہ

دیروزور سے منسلک حجین تحصیل  میں جھڑپوں کے دوبارہ چھڑنے کی بنا پر بڑھنے والے  شہریوں کے جانی نقصان اور بھاری تعداد میں شہریوں کی نقل مکانی باعث ِ تشویش ہے

ادلیب میں ترکی اور روس کا تعاون تسلی بخش ہے۔ اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی برائے شام گیئر  او پیڈرسن  کا کہنا ہے کہ ترکی اور روس کا ادلیب میں استحکام کو جاری رکھنے کے معاملے پر عزم باعث اطمینان ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارچ نے یومیہ پریس بریفنگ  میں اقوام ِ متحدہ کے نو متعین نمائندہ خصوصی برائے شام نارویجین سفارتکار پیڈرسن  کا کہنا ہے کہ شام میں پر امن حل کے حصول کے لیے تمام تر متعلقہ طرفین کے ساتھ صلاح مشورہ  جاری ہے اور بروز جمعرات وہ بین الاقوامی شام   تعاون گروپ  سے ملاقات کریں گے۔

مذاکرات میں شام  کے ادلیب اور شمال مشرقی علاقوں میں انسانی صورتحال  پر توجہ مرکوز کیے جانے کاذکر کرتے ہوئے دوجارچ نے کہا کہ پیڈرسن  نے  واضح کیا کہ ادلیب میں استحکام کے قیام کے حوالے سے ترکی اور روس کی موجودہ کاروائیاں تسلی بخش ہیں۔

انہوں نے اس جانب توجہ بھی مبذول کرائی ہے کہ دیروزور سے منسلک حجین تحصیل  میں جھڑپوں کے دوبارہ چھڑنے کی بنا پر بڑھنے والے  شہریوں کے جانی نقصان اور بھاری تعداد میں شہریوں کی نقل مکانی باعث ِ تشویش ہے۔

انہوں  نے مزید بتایا کہ حالیہ چھ ماہ میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کی بنا پر 25 ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں ، جبکہ حجین میں  تقریباً 2 ہزار افراد کے داعش میں شمولیت  کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔   داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں شہریوں کی صورتحال  پر ہمیں  گہری تشویش لا حق ہے۔

 

 



متعللقہ خبریں