فرانسیسی صدر: دین اسلام سمیت تمام تر مذہبوں کا احترام لازمی ہے

ماکرون نے   کہا کہ دینِ اسلام خاصکر  ہجرت اور آبادی میں اضافے کے بعد فرانس  میں پھیلا ہے، اسوقت   ملک  میں ساڑھے  4 تا 6 ملین   فرانسیسی شہری مسلمان ہیں

فرانسیسی صدر: دین اسلام سمیت تمام تر مذہبوں کا احترام لازمی ہے

فرانسیسی صدر امینول ماکرون  کا کہنا ہے کہ "اگر ہم اتفاق و سلوک سے زندگی بسر کرنا چاہتے  ہیں تو ہمیں دین و اعتقاد  کی حریت  کو قبول کرنا ہو گا۔ "

امینول ماکرون نے    براہ راست نشریات  کے دوران اخباری  نمائندوں کے سوالات  کا جواب دیا۔

ملک میں مسلمانوں اور ہیڈ اسکارف   کے استعمال کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دینے والے ماکرون نے   کہا کہ دینِ اسلام خاصکر  ہجرت اور آبادی میں اضافے کے بعد فرانس  میں پھیلا ہے، اسوقت   ملک  میں ساڑھے  4 تا 6 ملین   فرانسیسی شہری مسلمان ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ دین  فرانس کے لیے  ایک نیا دین ہے،  تاریخ بھر کے دوران  فرانس کا تعلق کیتھولک، پروسٹنٹ  اور یہودیوں سے   رہا ہے ،  شہریوں کی ایک  بڑی اکثریت اس نئی روش سے خوفزدہ ہے،  لیکن  اگر ہم  اتفاق و  سلوک   کے ماحول میں  پر سکون زندگیاں گزارنے کے متمنی ہیں تو پھر ہم سب کو  تمام تر مذہبوں اور عقیدوں کا احترام کرنا ہو گا۔

فرانسیسی لیڈر نے بتایا کہ  اس خوف کا موجب بننے والا  دین اسلام نہیں  بلکہ انتہا پسند ہیں۔

ہیڈ اسکارف  والی ایک عورت کو دیکھنے پر آپ کیا محسوس کرتے ہیں  پر تفصیلی جواب دیتے ہوئے  ماکرون  کا کہنا  تھا  کہ"میں ا ن کا احترام کرتا ہوں۔" عوام کو بھی   ان کا احترام کرنا چاہیے۔

 



متعللقہ خبریں